Site icon پلیب ٹائمز

“ایک عورت جیل میں اپنے خاوند سے ملنے گئی – ایک سبق آموز حقیقت”

ایک عورت جیل میں اپنے خاوند سے ملنے گئی واپسی پر جیلر سے کہا تم لوگ میرے

ایک عورت جیل میں اپنے خاوند سے ملنے گئی واپسی پر جیلر سے کہا تم لوگ میرے

زندگی میں ہر رشتہ اپنے دائرہ کار میں ایک ذمہ داری، ایک امتحان، اور ایک امید کا نام ہوتا ہے۔ خاوند اور بیوی کا رشتہ ان میں سے سب سے مضبوط، نازک اور خوبصورت تعلق ہے۔ یہی رشتہ تب زیادہ واضح ہوتا ہے جب وقت کا امتحان سخت ترین ہو جائے۔

ایک دن ایک عورت جیل میں اپنے قیدی شوہر سے ملاقات کرنے گئی۔ وہ تنہا تھی، کندھوں پر بچوں کی ذمہ داریاں، دل میں دکھوں کا بوجھ، اور آنکھوں میں اپنے شوہر سے ملنے کی آس لیے وہ جیل کے دروازے پر پہنچی۔ وقت مقررہ پر اندر داخل ہوئی، اور چند لمحوں کے لیے اپنے شوہر کو دیکھا۔ وہ خاموش تھا، شرمندہ تھا، مگر آنکھوں میں ایک سوال تھا: “کیا تم ابھی بھی میرا انتظار کر رہی ہو؟”

ملاقات ختم ہوئی۔ واپسی پر جیلر نے اس عورت سے ہمدردی کے طور پر پوچھا، “کیا آپ کو اس شخص سے اب بھی امید ہے؟”
عورت نے مسکرا کر جواب دیا،
“جی ہاں، کیونکہ جرم اس نے کیا ہے، محبت نہیں۔ سزا قانون نے دی ہے، میں نے نہیں۔ میرا رشتہ سزا سے نہیں، اس کی اصلاح سے ہے۔”

یہ جواب سن کر جیلر بھی خاموش ہو گیا۔


سبق اور پیغام:

یہ واقعہ محض ایک عورت کی وفاداری کی داستان نہیں، بلکہ اس میں کئی اہم معاشرتی اور تعلیمی پہلو چھپے ہوئے ہیں۔

1. رشتوں میں برداشت اور وفاداری:

اس عورت نے دنیا کی نظراندازی، رشتہ داروں کی طعنہ زنی، اور معاشرتی دباؤ کے باوجود اپنے شوہر سے رشتہ نبھایا۔ کیونکہ سچے رشتے صرف آسان وقت میں نہیں، بلکہ مشکل ترین وقت میں پہچانے جاتے ہیں۔

2. اصلاح کا جذبہ:

ہمارا معاشرہ اکثر مجرم کو صرف سزا دینے پر زور دیتا ہے، اصلاح کی کوشش نہیں کرتا۔ اگر ہم اپنے رشتوں اور معاشرے میں اصلاح کی نیت شامل کریں تو بہت سی زندگیاں تباہ ہونے سے بچ سکتی ہیں۔

3. خواتین کی ہمت اور کردار:

یہ عورت معاشرتی دباؤ کے باوجود اپنی سچائی پر قائم رہی۔ ایسی خواتین ہمارے معاشرے کی اصل طاقت ہیں، جو محبت، صبر اور قربانی کی مثال بن کر دوسروں کو بھی راستہ دکھاتی ہیں۔

4. قانون اور انسانیت:

قانون کا کام انصاف دینا ہے، اور معاشرے کا کام اصلاح کرنا۔ اگر دونوں ساتھ چلیں تو نہ صرف جرائم میں کمی آ سکتی ہے، بلکہ مجرم بھی نادم ہو کر بہتر انسان بن سکتے ہیں۔


آخر میں:

یہ کہانی ہر اس شخص کے لیے ہے جو مشکل وقت میں اپنوں کا ساتھ چھوڑ دیتا ہے۔ زندگی میں غلطیاں ہو جاتی ہیں، لیکن اگر محبت، نیت اور تعلق سچے ہوں، تو ان کا ازالہ بھی ممکن ہے۔

رشتے وقتی حالات کے محتاج نہیں ہوتے۔ وہ تو وہ چراغ ہیں جو طوفان میں بھی جلتے رہتے ہیں۔
آج کے دور میں جب رشتے نفع و نقصان کے ترازو پر تولا جا رہا ہے، ایسی عورتوں کا کردار ہمیں یاد دلاتا ہے کہ
“محبت صرف ساتھ نبھانے کا نام نہیں، بلکہ سہارے کا دوسرا نام بھی ہے۔”

Exit mobile version