Site icon پلیب ٹائمز

جب اپنا گھر چھن جائے: بے گھری کے بعد رشتہ داروں کی چھت تلے زندگی

جب اپنا گھر چھن جائے: بے گھری کے بعد رشتہ داروں کی چھت تلے زندگی

جب کوئی شخص یا خاندان اپنا گھر کھو دیتا ہے — چاہے وہ کسی قدرتی آفت، مالی بحران، یا سماجی ناانصافی کی وجہ سے ہو — تو وہ صرف اینٹوں اور دیواروں کا نہیں بلکہ اپنے جینے کے احساس، وقار اور تحفظ کا بھی نقصان اٹھاتا ہے۔ کچھ لوگ رشتہ داروں کے گھروں میں پناہ لینے پر مجبور ہو جاتے ہیں، اور کچھ سڑک کنارے بچا کھچا سامان لے کر بے بسی کی تصویر بنے ہوتے ہیں۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے، جو آج ہمارے معاشرے میں عام ہوتی جا رہی ہے۔

رشتہ داروں کے گھر: پناہ یا بوجھ؟

اکثر بے گھر ہونے کے بعد لوگ سب سے پہلا دروازہ اپنے قریبی رشتہ داروں کا کھٹکھٹاتے ہیں۔ شروع میں شاید ہمدردی کا مظاہرہ کیا جاتا ہے، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ وہی ہمدردی بوجھ محسوس ہونے لگتی ہے۔ ہر بات میں طعنے، ہر کام میں مداخلت، اور کبھی کبھی کھانے کے نوالے تک پر نظر — ایسے حالات میں پناہ لینے والا شخص ذہنی طور پر ٹوٹ جاتا ہے۔

انسانی وقار کو مجروح کرنے کے لیے صرف مار پیٹ یا بدسلوکی ہی کافی نہیں، بلکہ روز روز کے طعنے، نظر انداز کرنا، یا حقارت سے دیکھنا بھی ایک خاموش تشدد ہوتا ہے۔ بعض اوقات عورتوں کو یہ سننا پڑتا ہے: “تمھارے میاں نے کیا چھوڑا تمھارے لیے؟”، یا بچوں کو کہا جاتا ہے: “اپنے گھر جا کر شور مچاؤ!” یہ وہ زخم ہیں جو دکھائی نہیں دیتے، مگر برسوں تک تکلیف دیتے ہیں۔

سڑک کنارے زندگی: ریاستی ناکامی کی عکاسی

جن کے پاس رشتہ داروں کا سہارا نہیں ہوتا، وہ لوگ سڑک کنارے، فٹ پاتھوں یا پارکوں میں اپنے بچوں کے ساتھ چھوٹے سے خیمے یا چادر تلے زندگی بسر کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ یہ مناظر بڑے شہروں میں عام نظر آتے ہیں، جہاں زندگی کی چکاچوند کے پیچھے انسانی المیے چھپے ہوتے ہیں۔

چھوٹے بچے گرد و غبار میں کھیلتے ہیں، بوڑھے بیماریاں لیے لیٹے ہوتے ہیں، اور مائیں اپنے بچوں کو بھوکا سلا کر آنکھوں میں آنسو لیے آسمان کی طرف دیکھتی ہیں۔ یہ مناظر ہمیں روز دکھائی دیتے ہیں، مگر شاید ہم اتنے بے حس ہو چکے ہیں کہ ان کی تکلیف ہمیں تکلیف نہیں دیتی۔

حل کی تلاش: ریاست، سماج اور ہم سب کی ذمہ داری

یہ مسئلہ صرف ایک شخص یا ایک خاندان کا نہیں، بلکہ معاشرتی نظام کی ناکامی ہے۔ اگر حکومتیں سستے گھروں کی اسکیمیں چلائیں، اگر لوگ اپنے زکوٰة اور صدقات کو صحیح جگہ پر خرچ کریں، اور اگر رشتہ دار ایک دوسرے کو بوجھ سمجھنے کے بجائے سہارا دینے کی سوچ اپنائیں، تو ایسے المیوں کی تعداد کم ہو سکتی ہے۔

انسان جب تک چھت کے نیچے ہوتا ہے، تب تک اسے احساس نہیں ہوتا کہ “گھر” صرف دیواروں کا نام نہیں، بلکہ عزت، تحفظ اور اپنائیت کا گہوارہ ہوتا ہے۔


نتیجہ:
آج جب ہم اپنے آرام دہ گھروں میں بیٹھے یہ تحریر پڑھ رہے ہیں، تو کچھ لمحوں کے لیے اُن لوگوں کے بارے میں بھی سوچیں جو اپنا سب کچھ کھو چکے ہیں۔ اگر ہم خود کسی کو پناہ نہیں دے سکتے تو کم از کم اُن کے لیے دعا، حمایت یا آواز ضرور بلند کر سکتے ہیں۔ کیونکہ کل اگر قسمت ہمیں بھی آزمائے، تو ہم بھی کسی دروازے کی طرف دیکھ رہے ہوں گے۔

Exit mobile version