بھارت میں حالیہ دنوں میں ایک نوجوان کو دی گئی سزائے موت نے نہ صرف انسانی حقوق کے علمبرداروں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا، بلکہ عام بھارتی شہریوں میں بھی شدید غصہ اور مایوسی کی لہر دوڑا دی ہے۔ اس فیصلے کے بعد ملک میں مودی سرکار کو کڑی تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، اور سوشل میڈیا پر ہزاروں صارفین نے حکومت کے رویے اور عدالتی نظام کی شفافیت پر سوالات اٹھائے ہیں۔
واقعہ کیا تھا؟
اطلاعات کے مطابق ایک نوجوان کو ایک انتہائی حساس کیس میں مجرم قرار دے کر سزائے موت سنائی گئی۔ لیکن معاملہ اس وقت مشکوک ہوا جب سامنے آیا کہ مقدمے میں شواہد مکمل اور شفاف نہیں تھے، اور ملزم کا دفاع بھی پوری طرح سے ممکن نہیں بنایا گیا۔ مزید برآں، انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ تحقیقات میں سیاسی دباؤ شامل تھا، اور عدالتی کارروائی کو غیر جانبدار نہیں سمجھا جا سکتا۔
بھارتی عوام میں غصہ کیوں؟
مودی حکومت پر یہ الزام لگایا جا رہا ہے کہ وہ عدالتی نظام پر اثر انداز ہو کر مخصوص طبقے کو نشانہ بناتی ہے۔ حالیہ سزائے موت کا واقعہ اس سلسلے کی ایک کڑی سمجھا جا رہا ہے۔ عوام کی جانب سے درج ذیل اہم نکات پر تنقید کی جا رہی ہے:
-
مذہبی و لسانی تعصب: ناقدین کا کہنا ہے کہ عدالتی نظام میں اقلیتوں کو نشانہ بنانے کا رجحان بڑھ رہا ہے، اور یہ فیصلہ بھی اسی تعصب کی بنیاد پر لیا گیا ہے۔
-
شواہد کی کمی: میڈیا رپورٹس اور سوشل ایکٹیوسٹس کا کہنا ہے کہ کیس میں ناقص یا کمزور شواہد کے باوجود سزا دی گئی، جس سے عدلیہ کی شفافیت پر سوال اٹھتے ہیں۔
-
سیاسی مقاصد: بہت سے افراد کا ماننا ہے کہ حکومت نے یہ فیصلہ عوامی جذبات کو بھڑکانے یا انتخابات میں فائدہ حاصل کرنے کے لیے استعمال کیا ہے۔
-
انسانی حقوق کی خلاف ورزی: اقوام متحدہ سمیت متعدد عالمی اداروں نے بھارت میں سزائے موت کے فیصلوں پر تحفظات کا اظہار کیا ہے، خاص طور پر ان کیسز میں جہاں عدالتی عمل مکمل شفاف نہ ہو۔
سوشل میڈیا پر ردعمل
ٹویٹر، فیس بک اور انسٹاگرام پر “JusticeForVictim” اور “ShameOnGovernment” جیسے ہیش ٹیگ ٹرینڈ کر رہے ہیں۔ ہزاروں صارفین نے عدالت سے نظرثانی کی اپیل کی ہے اور مودی حکومت سے شفاف نظام کا مطالبہ کیا ہے۔
کچھ صارفین نے لکھا:
“اگر انصاف میں سیاست گھس جائے تو جمہوریت دفن ہو جاتی ہے۔”
“یہ صرف ایک سزا نہیں، اقلیتوں کو پیغام ہے کہ وہ غیر محفوظ ہیں۔”
مودی حکومت کا مؤقف
مودی حکومت کی جانب سے جاری کیے گئے بیانات میں کہا گیا ہے کہ عدالتی فیصلے مکمل قانونی دائرہ کار میں کیے گئے ہیں اور کسی بھی دباؤ کا الزام بے بنیاد ہے۔ حکومت کے مطابق عدلیہ آزاد ہے اور قانون کے مطابق کارروائی ہوئی ہے۔
نتیجہ: انصاف یا انتقام؟
یہ سوال آج ہر بھارتی شہری کے ذہن میں گونج رہا ہے کہ کیا واقعی یہ سزائے موت انصاف کی جیت تھی یا پھر انتقام کی سیاست کا ایک اور مظاہرہ؟
اس واقعے نے ایک بار پھر بھارت کے عدالتی نظام، انسانی حقوق، اور حکومت کی شفافیت کو دنیا بھر کی نظروں میں لا کھڑا کیا ہے۔ اگر ملک کو صحیح معنوں میں جمہوریت کہنا ہے تو نہ صرف عدلیہ کو آزاد رکھنا ہوگا بلکہ حکومت کو تنقید سننے اور جواب دہ ہونے کا حوصلہ بھی پیدا کرنا ہوگا۔

