کراچی، لاہور، یا ملک کے کسی بھی کونے میں آئے روز ایسے افسوسناک واقعات سننے کو ملتے ہیں جن میں دلہن کو شادی کی پہلی ہی رات میں اذیت یا بدسلوکی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ کبھی یہ ظلم جسمانی ہوتا ہے، کبھی ذہنی اور کبھی جذباتی۔ آخر ایسا کیوں ہو رہا ہے؟ کیا شادی صرف ایک رسم بن چکی ہے؟ کیا ہم نے نکاح جیسے پاکیزہ رشتے کو جذبات کی آماجگاہ سمجھ لیا ہے؟
ایک حالیہ واقعہ میں دلہن کے ساتھ پہلی ہی رات بدسلوکی کی گئی۔ نہ صرف جسمانی زخم، بلکہ روحانی صدمہ بھی اتنا گہرا تھا کہ لڑکی کئی دن تک خاموش رہی۔ اس واقعہ نے یہ سوال کھڑا کیا کہ کیا ہمارے نوجوان لڑکے شادی سے پہلے ذہنی طور پر تیار ہوتے ہیں؟ کیا ان کے اندر برداشت، نرمی اور ذمہ داری کا شعور موجود ہوتا ہے؟
نکاح – اللہ کی طرف سے ایک امانت
شریعتِ محمدی ﷺ میں نکاح کو عبادت کا درجہ دیا گیا ہے۔ یہ ایک ایسا بندھن ہے جو دو افراد کے درمیان نہیں بلکہ دو خاندانوں کے درمیان اعتماد اور محبت کی بنیاد پر قائم ہوتا ہے۔ مگر جب مرد صرف اپنی خواہشات کی تسکین کے لیے اس رشتے کو استعمال کرے، تو یہ نکاح نہیں ظلم بن جاتا ہے۔
نئی نویلی دلہن پر دباؤ
ہمارے معاشرے میں شادی کے فوراً بعد دلہن سے کئی امیدیں وابستہ کر لی جاتی ہیں۔ ایک نئی جگہ، نئے رشتے اور نیا ماحول — ان سب کے بیچ ایک کم عمر لڑکی اگر محبت اور احترام کی بجائے خوف، جبر یا اذیت کا شکار ہو جائے تو یہ سراسر ناانصافی ہے۔ شوہر کا فرض ہے کہ وہ اپنی بیوی کو اعتماد دے، اسے اپنائے اور آہستہ آہستہ اس کے ساتھ زندگی کے سفر پر چلے۔
معاشرتی تربیت کی کمی
زیادہ تر واقعات کی جڑ یہی ہے کہ ہم اپنے لڑکوں کو شادی سے پہلے نہ جذباتی طور پر تیار کرتے ہیں اور نہ شرعی تعلیم دیتے ہیں۔ انہیں سکھایا ہی نہیں جاتا کہ عورت صرف جسم نہیں، ایک مکمل انسان ہے — جذبات، احساسات، اور احترام کے ساتھ۔
خاندان کی خاموشی
اکثر خاندان ان واقعات پر چپ سادھ لیتے ہیں۔ “یہ تو میاں بیوی کا معاملہ ہے” کہہ کر ستم کو چھپا دیا جاتا ہے۔ مگر ظلم کو چھپانا، ظالم کا ساتھ دینا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ اگر ایسی صورتحال سامنے آئے تو خاندان دونوں کو مشورہ دے، رہنمائی کرے یا اگر ضرورت ہو تو علماء، مشیر یا کونسلنگ سے مدد لے۔
🔹 سبق:
-
بیوی پر ہاتھ اٹھانا یا زبردستی کرنا ظلم ہے اور اسلام اس کی ہرگز اجازت نہیں دیتا۔
-
شادی سے پہلے لڑکوں کو اسلامی تعلیم، اخلاقی تربیت اور ذمہ داری کا شعور دینا ضروری ہے۔
-
لڑکی کے ساتھ پہلی رات کی نرمی اور احترام ہی آئندہ زندگی کی بنیاد بناتا ہے۔
-
رشتے صرف جسمانی نہیں، روحانی اور جذباتی ہم آہنگی سے بنتے ہیں۔

