Site icon پلیب ٹائمز

کوئی مر گیا اور کسی کو ایک مہینے تک خبر نہیں! – اداکارہ حمیرا اصغر کی تنہائی بھری موت پر ایک دردناک سوال

کوئی مر گیا اور کسی کو ایک مہینے تک خبر نہیں

دنیا کا سب سے بڑا دکھ شاید یہ ہو کہ کوئی شخص خاموشی سے مر جائے، اور ایک مہینے تک کسی کو اس کی موت کی خبر نہ ہو۔ نہ دروازہ کھٹکھٹایا جائے، نہ فون کی گھنٹی بجے، نہ کوئی یاد کرے، نہ پوچھے کہ وہ کیسا ہے… اور پھر جب کسی دن بدبو محسوس ہو تو لاش ملے!

یہ کہانی فلمی نہیں، حقیقت ہے۔ پاکستان کی ایک سابقہ اداکارہ حمیرا اصغر جنہوں نے کئی سال شوبز میں کام کیا، وہ اپنے فلیٹ میں اکیلی رہتی تھیں۔ پولیس کے مطابق ان کی لاش ایک ماہ بعد ملی، جب فلیٹ سے بدبو آنے لگی۔ نہ کوئی ملنے آیا، نہ کسی نے فون کیا، نہ کسی رشتہ دار نے خبر لی۔ والد نے لاش لینے سے انکار کر دیا، کہ “ہم نے اس سے تعلق ختم کر دیا تھا۔”

📌 یہ صرف حمیرا کی کہانی نہیں ہے

آج معاشرے میں بہت سے لوگ تنہائی کا شکار ہیں۔ وہ بزرگ جن کے بچے بیرونِ ملک چلے گئے، وہ خواتین جنہوں نے زندگی بھر خاندان سنبھالا مگر بڑھاپے میں اکیلی رہ گئیں، وہ مرد جو کام اور مصروفیات میں اپنوں سے کٹ گئے — سب تنہائی کے زہر سے مر رہے ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ کچھ زندہ لاش بن چکے ہیں، اور کچھ کی لاش کو لوگ پہچانتے ہی نہیں۔

ہم کہاں جا رہے ہیں؟

💔 خاندان کا ٹوٹتا رشتہ

اداکارہ حمیرا اصغر کا خاندان ان سے ناراض تھا۔ شاید ان کے فیصلے یا طرزِ زندگی سے اختلاف تھا، مگر سوال یہ ہے: کیا اختلاف کا مطلب رشتہ ختم کرنا ہے؟ کیا کوئی بیٹی، بہن یا ماں اتنی غیر ہو سکتی ہے کہ موت کے بعد بھی اسے دفنانے والا کوئی نہ ہو؟

اسلام ہمیں صلہ رحمی (رشتے جوڑنے) کا حکم دیتا ہے، قطع رحمی (رشتہ توڑنے) کو گناہ قرار دیتا ہے۔ اگر ہم دنیاوی ناراضی پر رشتے ختم کریں گے تو قیامت کے دن ہم سے سوال ہوگا: کیا تم نے اپنے رشتوں کو معاف کرنے کے بجائے چھوڑ دیا؟

🕊️ تنہا لوگ، خاموش آہیں

ہمیں اپنے ارد گرد نظر رکھنی چاہیے:

ایک فون کال، ایک ملاقات، ایک چھوٹا سا سلام — کسی کی زندگی بچا سکتا ہے۔ تنہائی سے انسان صرف اداس نہیں ہوتا، وہ آہستہ آہستہ مرنے لگتا ہے۔


📢 سبق اور پیغام:

Exit mobile version