Site icon پلیب ٹائمز

ایک اور افسوسناک واقعہ: مردان میں نومولود بچی کو کوڑے میں پھینک دیا گیا – ہم کس طرف جا رہے ہیں؟

ایک اور افسسوس ناک واقعہ: مردان بینک روڈ گارڈن محلہ میں پھینکی گئی نومولود بچی

مردان کے بینک روڈ، گارڈن محلہ میں ایک ایسا دل دہلا دینے والا واقعہ پیش آیا جس نے انسانیت کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ محلے کے لوگوں نے علی الصبح جب کوڑا اٹھانے کے لیے جگہ پر پہنچا تو وہاں سے ایک نومولود بچی کی کمزور سی سسکیاں سنائی دیں۔ کسی نے جب قریب جا کر دیکھا تو ایک ننھی جان بغیر کپڑوں کے، ٹھنڈ اور مٹی میں لت پت، سانسیں لے رہی تھی۔

ریسکیو ٹیم کو بلایا گیا، بچی کو اسپتال منتقل کیا گیا… لیکن سوال یہ ہے:

ہماری انسانیت کہاں مر گئی ہے؟


📌 بچی کو کیوں پھینکا گیا؟

ہم ایسے واقعات آئے دن سنتے ہیں۔ نومولود بچوں کو نالیاں، کوڑے دان، درختوں کے نیچے یا فٹ پاتھوں پر پھینک دیا جاتا ہے۔ زیادہ تر یہ بچیاں ہوتی ہیں۔ بعض اوقات تو ان میں سے کچھ بچوں کو مردہ پایا جاتا ہے، بعض کو جانور کھا جاتے ہیں، اور کچھ معجزاتی طور پر بچ جاتے ہیں۔

ایسے واقعات کے پیچھے کئی ممکنہ وجوہات ہوتی ہیں:

لیکن کیا کوئی وجہ اتنی بڑی ہو سکتی ہے کہ ایک معصوم جان کو اس دنیا میں آنے کے فوراً بعد یوں بےرحمی سے کوڑے میں پھینک دیا جائے؟


💔 سماجی اور اخلاقی زوال

یہ صرف ایک بچی کا واقعہ نہیں، یہ ہمارے معاشرے کی تنزلی کی ایک مثال ہے۔ معاشرہ جو تعلیم، ترقی اور شعور کے بلند دعوے کرتا ہے، وہاں اب بھی ایسی درندگی موجود ہے جو کسی جنگل کے قانون سے کم نہیں۔


🕊️ اسلام اور بیٹی کا مقام

اسلام نے بیٹی کو رحمت قرار دیا ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

“جس نے دو بیٹیوں کی پرورش کی، اُن کے ساتھ حسنِ سلوک کیا، وہ جنت میں میرے ساتھ ہو گا۔”
(صحیح مسلم)

بیٹی کو مارنا، چھوڑ دینا، یا اس پر شرمندہ ہونا جاہلیت کا دور تھا، جو اسلام نے ختم کر دیا۔ لیکن آج 21ویں صدی کے مسلمان، دوبارہ اسی جاہلانہ روش پر چل پڑے ہیں۔


⚖️ ہم کیا کر سکتے ہیں؟

  1. آگاہی: لوگوں کو بتانا ہوگا کہ بچی یا بچہ ہونا اللہ کا فیصلہ ہے۔ اس پر شرمندگی یا خوف نہیں، شکر ہونا چاہیے۔

  2. قانون سازی: حکومت کو ایسے واقعات پر سخت قانونی کاروائی کرنی چاہیے۔ اگر کوئی بچی کو پھینکتا ہے تو یہ قتل کی کوشش ہے، محض سماجی معاملہ نہیں۔

  3. رضاعی مراکز (دارالکفالہ): ہر شہر میں ایسے مراکز ہونے چاہییں جہاں unwanted بچے محفوظ طریقے سے رکھے جا سکیں۔ ایدھی سینٹرز ایک مثال ہیں، لیکن یہ کافی نہیں۔

  4. سماجی رویوں میں تبدیلی: ہمیں معاشرے میں اتنا حوصلہ پیدا کرنا ہوگا کہ اگر کوئی لڑکی کسی غلطی کا شکار ہو گئی ہے تو وہ اپنے بچے کو سنبھالنے کی ہمت کرے، نہ کہ کوڑے میں پھینکنے کی۔

  5. بچیوں کی عزت: بیٹیوں کو جائیداد، تعلیم، محبت، اور زندگی کا وہی حق دیا جائے جو بیٹوں کو ملتا ہے۔


📢 نتیجہ: ایک لمحہ فکریہ

یہ ننھی بچی جو کوڑے میں پڑی تھی، وہ خاموش چیخ تھی اس معاشرے کی جس نے بیٹی کو بوجھ سمجھا۔ وہ چیخ تھی ہمارے غیر سنجیدہ مذہبی و سماجی شعور کی۔ اور وہ چیخ تھی ہر اس ماں کے دل کی جس نے بیٹی کو چپکے سے جنم دیا اور پھر شرمندگی سے زمین میں دفن کر دیا۔

ہمیں اب جاگنا ہوگا، ورنہ ایک دن ہماری انسانیت بھی اسی کوڑے دان میں پڑی سسک رہی ہوگی۔

Exit mobile version