حال ہی میں اداکارہ حمیرا اصغر کی پراسرار موت نے میڈیا اور عوام میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔ ابتدائی رپورٹس میں اسے طبعی موت قرار دیا گیا، لیکن اب کچھ ایسے شواہد سامنے آ رہے ہیں جن سے یہ شبہ پیدا ہو رہا ہے کہ ان کی موت ایک سازش کا نتیجہ ہو سکتی ہے۔
جسم پر نشانات، سوالات اور تحقیقات
ذرائع کے مطابق، اداکارہ کے جسم پر کچھ ایسے نشانات پائے گئے ہیں جو طبعی موت سے میل نہیں کھاتے۔ ان نشانات کے باعث پولیس نے پوسٹ مارٹم کی تفصیلی رپورٹ کا انتظار شروع کر دیا ہے، اور کیس کو ایک ممکنہ قتل کی سمت میں دیکھا جا رہا ہے۔
میڈیا کی ذمے داری اور معاشرتی حساسیت
اس طرح کے واقعات میں میڈیا کو سب سے پہلے ذمے داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ بغیر تحقیق کے افواہیں پھیلانا نہ صرف مرحومہ کے خاندان کے لیے تکلیف دہ ہوتا ہے بلکہ یہ عوام میں خوف و ہراس پھیلانے کا سبب بھی بنتا ہے۔
خواتین کی حفاظت—سماجی شعور کی ضرورت
اس افسوسناک واقعے نے ایک بار پھر خواتین کی سلامتی، تنہائی میں رہائش، اور معاشرتی تعاون پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ ہمیں ایک ایسا معاشرہ تشکیل دینے کی ضرورت ہے جہاں ہر عورت، خاص طور پر اکیلی یا کام کرنے والی خواتین، خود کو محفوظ محسوس کریں۔
اپیل: صبر، تحقیق اور انصاف
ہم تمام اداروں سے اپیل کرتے ہیں کہ اس معاملے کی مکمل اور غیر جانبدارانہ تفتیش کی جائے تاکہ سچ سامنے آ سکے۔ اگر یہ واقعی قتل ہے تو قاتل کو کڑی سزا دی جائے تاکہ انصاف قائم ہو اور آئندہ کسی کی جان اتنی آسانی سے نہ لی جا سکے۔

