Site icon پلیب ٹائمز

یہ پیارا سا بچہ ابرار قریشی ضلع اٹک کا ہے، جس کی عمر تقریباً اڑھائی سال ہے

یہ پیارا سا بچہ ابرار قریشی ضلع اٹک کا ہے، جس کی عمر تقریباً اڑھائی سال ہے

چھوٹے چھوٹے قدم، معصوم سی مسکراہٹ، اور آنکھوں میں ایک دنیا دیکھنے کی چاہت۔
ابرار قریشی، ضلع اٹک کا رہائشی، صرف اڑھائی سال کا ایک ننھا پھول ہے۔ لیکن اس کے ساتھ جو کچھ ہوا، وہ صرف ایک واقعہ نہیں، بلکہ ہمارے معاشرے کی آنکھیں کھولنے کے لیے ایک زور دار دستک ہے۔

یہ بچہ جسے آج ہر طرف سے توجہ، محبت اور تحفظ ملنا چاہیے تھا، وہ بے یار و مددگار ایک ایسے موڑ پر کھڑا نظر آیا جہاں سے زندگی کے کئی سوالات اٹھتے ہیں۔


❖ کیا ہوا تھا ابرار کے ساتھ؟

ابرار اپنی والدہ کے ہمراہ ایک عزیز کے ہاں جانے نکلا، لیکن بھیڑ بھاڑ اور بدانتظامی کے باعث وہ ماں سے جدا ہو گیا۔ چند لمحوں کی غفلت نے اس معصوم کو تنہا کر دیا، اور یوں وہ ایک بازار کے کونے میں روتا ہوا پایا گیا۔

لوگوں کا رش تھا، لیکن کسی نے اسے فوراً نہ پہچانا۔
کچھ لوگ صرف ویڈیو بنانے میں مصروف رہے، تو کچھ نے تماشا سمجھ کر گزر جانا بہتر جانا۔
لیکن پھر، شکر ہے کہ ایک درد دل رکھنے والی خاتون نے اسے دیکھا، اور فوراً پولیس کو اطلاع دی۔


❖ ہمارے رویے — لمحۂ فکریہ

سوال یہ نہیں کہ ابرار بچھڑ کیوں گیا،
سوال یہ ہے کہ اگر آپ یا ہم اس جگہ ہوتے، تو کیا ہماری نگاہیں اس ننھے وجود کو نظرانداز کر جاتیں؟

یہ واقعہ ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ:


❖ سبق جو ہر والدین کو سیکھنا چاہیے

اگر آپ والدین ہیں، تو یہ چند باتیں یاد رکھیں:

  1. ننھے بچوں کا ہاتھ ہمیشہ پکڑ کر رکھیں، خاص طور پر رش والی جگہوں پر۔

  2. بچوں کو ان کے مکمل نام، والدین کے نام، اور قریبی عزیز کا نمبر یاد کروائیں (عمر کے مطابق)۔

  3. اگر ممکن ہو تو بچے کی جیب میں ایک چھوٹا کارڈ رکھیں جس میں والدین کا نمبر اور پتہ ہو۔

  4. بچوں کو سکھائیں کہ اگر وہ کھو جائیں تو قریبی پولیس یا فیملی والی خاتون سے مدد لیں۔


❖ انسانیت اب بھی زندہ ہے… اگر ہم چاہیں

ابرار قریشی کی حفاظت کی ایک مثال اُس خاتون نے قائم کی، جس نے اپنے دن کا وقت نکال کر، اس بچے کو محفوظ ہاتھوں تک پہنچایا۔
ایسے لوگ امید کی کرن ہیں۔
ایسے لوگ ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ معاشرہ ابھی مرا نہیں… بس سو گیا ہے۔
ہم سب کو بیدار ہونا ہے۔


✅ نتیجہ:

ابرار آج اپنے والدین کے پاس محفوظ ہے، لیکن یہ واقعہ ہمیں خبردار کر رہا ہے۔
کل کو ابرار کی جگہ آپ کا بچہ بھی ہو سکتا ہے۔
چند لمحوں کی غفلت ایک عمر کا پچھتاوا بن سکتی ہے۔

آیئے ہم اپنی آنکھیں کھولیں، دل کو نرم کریں، اور دوسروں کے بچوں کو بھی اپنی اولاد کی طرح تحفظ دیں۔

Exit mobile version