اداکارہ حمیرا اصغر کا نام ان دنوں سوشل میڈیا، اخبارات اور نیوز چینلز پر گونج رہا ہے۔ ان کی پراسرار موت نے نہ صرف شوبز انڈسٹری کو ہلا کر رکھ دیا بلکہ ایک بار پھر معاشرے کو آئینہ دکھایا کہ تنہا رہنے والی خواتین، خاص طور پر بیوہ یا غیر شادی شدہ، کس قدر غیر محفوظ ہیں — چاہے وہ کتنی ہی کامیاب یا مشہور کیوں نہ ہوں۔
آئیے جانتے ہیں کہ حمیرا کے ساتھ کیا واقعہ پیش آیا، اس کی تفصیلات، اور اس واقعے سے ہمیں کیا سیکھنا چاہیے۔
❖ واقعے کا آغاز
حمیرا اصغر گزشتہ چند برسوں سے کراچی کے ایک فلیٹ میں تنہا رہائش پذیر تھیں۔ ان کی والدہ کا انتقال کچھ سال پہلے ہو چکا تھا جبکہ والد اور بھائیوں سے تعلقات میں سرد مہری پائی جاتی تھی۔ بطور اداکارہ وہ کچھ ڈراموں میں کام کر چکی تھیں، مگر گزشتہ ایک سال سے اسکرین پر نظر نہیں آئیں۔ قریبی افراد کے مطابق، وہ ذہنی دباؤ اور اکیلے پن کا شکار تھیں۔
❖ موت کی خبر
ایک روز پڑوسیوں نے فلیٹ سے بدبو آنے کی شکایت کی، جس پر پولیس کو اطلاع دی گئی۔ جب دروازہ توڑ کر اندر داخل ہوئے، تو حمیرا کی لاش بیڈ کے قریب الٹی پڑی ہوئی ملی۔ ابتدائی طور پر اسے طبی موت قرار دیا گیا، مگر بعد ازاں پوسٹ مارٹم رپورٹ میں جسم پر تشدد کے نشانات سامنے آئے۔ خاص طور پر گردن اور بازو پر نیل اور چہرے پر خراشیں اس بات کا اشارہ دے رہے تھے کہ موت فطری نہیں تھی۔
❖ گھر والوں کا ردعمل
پولیس نے جب اہل خانہ سے رابطہ کیا تو حمیرا کے والد نے لاش لینے سے انکار کر دیا۔ ان کا کہنا تھا:
“ہماری بیٹی نے ہماری عزت کا خیال نہیں رکھا، اب ہم اس کا بوجھ نہیں اٹھا سکتے۔”
یہ جملہ صرف ایک باپ کا ردعمل نہیں، بلکہ ایک سماجی سوچ کی عکاسی کرتا ہے جس میں عورت کی موت سے زیادہ اس کی زندگی کے فیصلوں پر تنقید کی جاتی ہے۔
❖ سچائی کیا ہے؟
تحقیقات سے پتہ چلا کہ حمیرا کے فلیٹ میں چند بار مشکوک افراد کی آمدورفت دیکھی گئی تھی۔ سی سی ٹی وی فوٹیج میں ایک نامعلوم شخص آخری بار رات گئے فلیٹ میں داخل ہوتا ہوا نظر آیا، مگر نکلتا ہوا نہیں دیکھا گیا۔ پولیس نے شبہ ظاہر کیا کہ وہی شخص ممکنہ طور پر اس واقعے میں ملوث ہے۔
مزید چھان بین جاری ہے۔
❖ سیکھنے والی باتیں – ایک اصلاحی پیغام
-
اکیلا پن ایک خاموش دشمن ہے۔ معاشرے کو چاہیے کہ وہ تنہا رہنے والے افراد، خاص طور پر خواتین، کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہے۔
-
خاندان کا ساتھ چھوڑ دینا ایک فرد کو کئی مسائل میں دھکیل دیتا ہے۔ رشتے صرف رشتہ داری نہیں، بلکہ حفاظت کا ایک دائرہ ہوتے ہیں۔
-
سوشل میڈیا اور شہرت کبھی بھی انسان کو مکمل تحفظ نہیں دے سکتے۔ اصل تحفظ انسان کو اپنے مضبوط اخلاق، تعلقات اور احتیاط سے ملتا ہے۔
-
عورت کی زندگی کے فیصلوں پر تنقید سے زیادہ اس کے حالات سمجھنے کی ضرورت ہے۔
❖ آخر میں…
حمیرا اصغر کی موت صرف ایک فرد کی کہانی نہیں، بلکہ ہزاروں ایسی لڑکیوں کا درد ہے جو اپنے خوابوں کے ساتھ تنہا لڑتی ہیں اور معاشرہ ان کے مرنے کے بعد بھی انہیں جج کرتا ہے۔
ہمیں بحیثیت انسان، رہنمائی، محبت اور اصلاح کا راستہ اپنانا ہوگا۔ تب ہی ہم حمیرا جیسی ہستیوں کی زندگی بچا سکیں گے، نہ کہ صرف لاشوں پر خبریں بنائیں گے۔

