سانحہ دریائے سوات، جس نے کئی قیمتی جانیں نگل لیں، ایک بار پھر خبروں کی زینت بن گیا ہے، لیکن اس بار وجہ کچھ اور ہے۔ حکومت کی جانب سے اس واقعے پر تحقیقاتی رپورٹ جاری کر دی گئی ہے، جس میں تمام تر ذمہ داری سیاحوں پر ڈال دی گئی ہے۔ اس بات نے نہ صرف عوام بلکہ سوشل میڈیا صارفین اور متاثرہ خاندانوں کو بھی غم و غصے میں مبتلا کر دیا ہے۔
❖ واقعے کا پس منظر
چند ہفتے قبل، دریائے سوات میں طغیانی کے باعث درجنوں سیاح، جن میں بچے، خواتین اور مرد شامل تھے، پانی کی تیز موجوں میں بہہ گئے۔ یہ سانحہ اُس وقت پیش آیا جب بعض سیاح دریا کے کنارے خیمے لگا کر یا ہوٹلوں میں قیام پذیر تھے، جبکہ بارشوں اور ممکنہ سیلاب سے متعلق کوئی مؤثر انتباہی نظام فعال نہیں کیا گیا تھا۔
❖ رپورٹ کے اہم نکات
تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق:
-
سیاحوں کو کئی بار دریا کے قریب نہ جانے کی ہدایت کی گئی تھی۔
-
کیمپنگ کرنے والے افراد نے حکومتی وارننگز کو نظر انداز کیا۔
-
ہوٹل مالکان نے بھی سیاحوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کے بجائے کاروباری مفاد کو ترجیح دی۔
تاہم، رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ:
-
ضلعی انتظامیہ نے بروقت اقدامات کیے تھے۔
-
ریسکیو ٹیمیں فورا حرکت میں آئیں، لیکن پانی کی شدت زیادہ تھی۔
❖ عوامی ردعمل
رپورٹ کے منظر عام پر آتے ہی عوام میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ سوشل میڈیا صارفین کا کہنا ہے:
“جب انفراسٹرکچر کمزور ہو، انتباہی نظام موجود نہ ہو، اور سیاحوں کو گائیڈ کرنے والا کوئی نہ ہو، تو پھر حکومت کس کام کی؟”
کچھ صارفین نے یہ بھی کہا کہ انتظامیہ صرف اپنی نااہلی چھپانے کے لیے سارا ملبہ بے خبر عوام پر ڈال رہی ہے۔
❖ اصل ذمہ داری کس کی ہے؟
اس سانحے نے کئی سوالات کھڑے کر دیے:
-
اگر موسمی وارننگز موجود تھیں تو ان پر عمل درآمد کیوں نہ ہوا؟
-
سیاحوں کو بروقت نکالنے کے لیے کوئی میکانزم کیوں نہ بنایا گیا؟
-
اگر ہوٹل دریا کے قریب خطرناک مقام پر بنے ہوئے تھے، تو حکومت نے اجازت کیسے دی؟
❖ اصلاحی پیغام
سانحات ہمیشہ سیکھنے کے مواقع ہوتے ہیں۔ اس رپورٹ نے جہاں عوام کی غلطی گنوائی، وہیں حکومتی ناکامیوں سے چشم پوشی بھی کی۔ ہمیں چاہیے:
-
سیاحت کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ محفوظ سیاحت کے اصول بھی واضح کیے جائیں۔
-
حکومت مقامی افراد کو ٹریننگ دے تاکہ وہ سیاحوں کی رہنمائی کر سکیں۔
-
ایمرجنسی الرٹ سسٹم جدید اور فعال بنایا جائے۔
❖ اختتامیہ
سانحہ دریائے سوات کا دکھ ایک گہرے زخم کی طرح ہے۔ اس پر صرف الزام تراشی نہیں، بلکہ عملی اصلاحات کی ضرورت ہے۔ اگر آج بھی صرف رپورٹیں اور بیانات تک بات محدود رہی تو کل مزید جانیں ضائع ہوں گی — اور پھر ایک اور رپورٹ، ایک اور سانحہ، ایک اور الزام…!

