Site icon پلیب ٹائمز

آٹو رکشہ ڈرائیور کی گود میں بچہ – ایک سبق آموز حقیقت

آٹو رکشہ ڈرائیور کی گود میں بچہ – ایک سبق آموز حقیقت

آج میں ایک عام دن کی طرح مصروف تھا۔ جلدی میں سڑک کنارے کھڑے ہو کر ایک آٹو رکشہ روکا اور سفر شروع کیا۔ لیکن جیسے ہی میں بیٹھا، میری نگاہ آٹو ڈرائیور پر پڑی – اس کی گود میں ایک معصوم سا بچہ تھا۔ وہ شاید ڈیڑھ یا دو سال کا ہوگا، سکون سے اپنے باپ کی گود میں بیٹھا ہوا، آنکھوں میں معصومیت، اور چہرے پر بے فکری۔

میرا دل کانپ گیا۔ میں نے فوراً پوچھا:
“بھائی! بچے کو ساتھ کیوں رکھا ہوا ہے؟”

ڈرائیور نے مسکرا کر کہا:
“بیوی کا کچھ دن پہلے انتقال ہو گیا۔ سسرال والے بچے کو رکھنے کو تیار نہیں، اور میں اکیلا ہوں… اگر بچے کو ساتھ نہ رکھوں تو کما نہیں سکتا، اور اگر کماؤں نہ تو یہ بچہ کھائے گا کیا؟”

یہ سن کر میرے گلے میں کچھ اٹک سا گیا۔ وہ آدمی نہ شکایت کر رہا تھا، نہ رحم مانگ رہا تھا۔ بس اپنی مجبوری اور ذمہ داری کو نبھا رہا تھا۔


✦ ایک باپ کی خاموش قربانی

ہم نے ماں کی ممتا کے ہزاروں قصے سنے ہیں، لیکن یہ باپ بھی کسی عظیم کردار سے کم نہیں تھا۔ وہ اپنی محنت اور محبت سے اپنے بچے کو بچا رہا تھا، اس کی ہر مسکراہٹ کے پیچھے ایک باپ کا درد چھپا تھا۔

سخت دھوپ، ٹریفک کا شور، دھواں، گرمی… ان سب میں ایک چھوٹا بچہ رکشے کی سیٹ پر یا کبھی باپ کی گود میں، زندگی کے اصل امتحان کا حصہ بن رہا تھا۔


✦ ہمیں کیا سبق ملتا ہے؟

یہ واقعہ صرف ایک لمحہ نہیں، بلکہ ایک آئینہ ہے:

  1. محنت کی عظمت – وہ باپ بھیک نہیں مانگ رہا تھا، بلکہ اپنا پسینہ بہا رہا تھا۔

  2. ذمہ داری کی مثال – بیوی کے جانے کے بعد اس نے بیٹے کی پوری ذمہ داری خود اٹھا لی۔

  3. سماج کی غفلت – کتنے لوگ اس جیسے مجبور افراد کے ساتھ تھوڑا سا تعاون کر سکتے ہیں مگر بے پرواہ ہیں۔


✦ ہم کیا کر سکتے ہیں؟


✦ اختتامیہ

اس دن میری منزل وہ جگہ نہیں تھی جہاں میں اترنا چاہتا تھا، بلکہ وہ آٹو رکشہ ہی میری منزل بن گیا — جہاں میں نے محبت، قربانی اور حوصلے کا ایک زندہ منظر دیکھا۔

اللہ ہمیں بھی ایسا بنائے کہ ہم کسی مجبور کے آنسو پونچھ سکیں، کسی باپ کے حوصلے کو سراہ سکیں، اور ایک معصوم بچے کے مستقبل کے لیے دعا کر سکیں۔

Exit mobile version