میرا نام ثمرین ہے۔ میں ایک عام سی لڑکی تھی، لیکن میری زندگی کی کہانی عام نہیں۔ میری ماں میرے بچپن میں ہی وفات پا گئی تھی، اور ابو نے کچھ عرصے بعد دوسری شادی کر لی۔ نئی ماں آئی، تو امید کی کہ شاید وہ ماں کا پیار دے گی، لیکن وہ صرف نام کی “ماں” نکلی۔
شروع میں تو اس نے محبت کا دکھاوا کیا، لیکن وقت کے ساتھ ساتھ اس کا رویہ بدلتا گیا۔ وہ مجھے نوکرانی کی طرح رکھتی، مجھ سے گھر کا سارا کام کرواتی اور ابو کے سامنے مسکراہٹ سجا کر سب اچھا ظاہر کرتی۔ ابو کو کبھی شک نہ ہوا، اور میں ہر دن اپنے اندر درد چھپاتی رہی۔
جب رشتہ آیا…
ایک دن میری سوتیلی ماں نے مجھے بتایا کہ ایک “اچھا” رشتہ آیا ہے۔ میں خوش ہوئی، لیکن جب تفصیل سنی، تو جیسے زمین پیر سے نکل گئی۔ وہ رشتہ ایک 60 سالہ امیر شخص کا تھا جو پہلے سے شادی شدہ اور پوتے پوتیوں والا تھا۔
میں نے روتے ہوئے کہا:
“امی! میں اس سے شادی نہیں کرنا چاہتی، وہ میرے ابو کی عمر کا ہے!”
مگر میری سوتیلی ماں نے سخت لہجے میں کہا:
“بس جو کہا ہے وہی ہوگا، ہم محتاج نہیں کہ تم جیسے بوجھ کو اور زیادہ پالیں!”
ابو خاموش رہے…
ابو کو جب بتایا گیا تو سوتیلی ماں نے ایسے انداز میں سمجھایا جیسے وہ میرے بھلے کی بات ہو۔ ابو نے کہا:
“بیٹی، تمہاری ماں کہہ رہی ہے کہ یہ رشتہ تمہارے لیے بہتر ہے، ہمیں مالی مدد بھی ملے گی۔”
میرے دل کی چیخیں اندر ہی اندر دفن ہو گئیں۔
شادی… اور پھر ایک قید
شادی ہو گئی۔ مجھے اس آدمی کے ساتھ رخصت کر دیا گیا جس کے چہرے پر جھریاں، باتوں میں خود پسندی، اور طبیعت میں سختی تھی۔ وہ مجھے صرف ایک “چیز” سمجھتا تھا۔ عزت، محبت، احساس… ان الفاظ کا اس کی لغت میں کوئی وجود نہیں تھا۔
میں دن رات تنہا روتی۔ کوئی ہمدردی نہ تھی، کوئی شنوائی نہیں۔
ایک دن ہمت کی…
کئی ماہ بعد جب میں شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہو گئی، میں نے فیصلہ کیا کہ اب مزید خاموش نہیں رہوں گی۔ میں نے ایک مقامی NGO سے رابطہ کیا، اپنی کہانی سنائی، اور قانونی مدد لی۔ عدالت میں سوتیلی ماں کی سازشیں اور میرے خلاف زبردستی کی گئی شادی کے ثبوت دیے۔
عدالت نے میرا نکاح ختم کیا، اور مجھے قانونی تحفظ ملا۔
آج میں کہاں ہوں؟
آج میں وہی ثمرین ہوں، لیکن کمزور نہیں۔ میں نے تعلیم مکمل کی، نفسیاتی مدد لی، اور اب لڑکیوں کے حقوق کے لیے کام کر رہی ہوں۔ میری زندگی نے مجھے دکھ دیا، لیکن اس دکھ نے مجھے طاقتور بنایا۔
سیکھنے کا پیغام:
-
والدین کے بعد سوتیلی ماں اگر اچھی ہو تو نعمت ہے، ورنہ آزمائش۔
-
لڑکی کی شادی اس کی رضامندی کے بغیر کرنا ظلم ہے، نہ کہ حل۔
-
ہر لڑکی کو اپنی آواز اٹھانی چاہیے، چاہے کتنی ہی دیر ہو جائے۔
-
رشتہ صرف دولت پر نہیں، عزت، عمر اور سمجھ پر بھی پرکھنا چاہیے۔

