میں علاج کے لیے اسپتال گئی تھی، جسمانی بیماری نے زندگی کو مشکل بنا رکھا تھا۔ امید تھی کہ وہاں شفا ملے گی، آرام ملے گا، اور میں صحت یاب ہو جاؤں گی۔ لیکن جو کچھ میرے ساتھ وہاں ہوا، اُس نے میری روح تک کو زخمی کر دیا۔ وہاں کے ایک ڈاکٹر نے میرے ساتھ ایسا رویہ اختیار کیا جو نہ صرف غیر پیشہ ورانہ تھا بلکہ ایک خاتون مریض کے لیے شدید اذیت ناک بھی۔
میں گھبرا گئی۔ میرا دل چاہا سب کچھ چھوڑ کر بھاگ جاؤں، لیکن ساتھ میں میری ماں تھی۔ جب میں نے ماں کو بتایا تو اُس کی آنکھوں میں آنسو آ گئے، مگر اُس نے مجھے حوصلہ دیا۔ اُس نے کہا:
“بیٹی، تم نے سچ بتایا ہے، اب ہم خاموش نہیں رہیں گے۔”
ہم نے اسپتال انتظامیہ سے شکایت کی، قانونی کارروائی کی اور ڈاکٹر کے خلاف ثبوتوں کے ساتھ آواز بلند کی۔ کچھ لوگ کہتے رہے کہ “یہ بدنامی کا باعث بنے گا”، مگر میری ماں نے کہا:
“بیٹی کی عزت بچانا بدنامی نہیں، عزت ہے۔”
یہ صرف میری کہانی نہیں، ہم سب کی ذمہ داری ہے
ہمارے معاشرے میں اکثر لڑکیاں، خواتین یا یہاں تک کہ بچیاں بھی اسپتال، اسکول یا دفتر میں ہراسانی کا شکار ہوتی ہیں۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ اکثر واقعات چھپائے جاتے ہیں، یا متاثرہ کو ہی قصوروار ٹھہرا دیا جاتا ہے۔ اگر ہم واقعی ایک مہذب اور اسلامی معاشرہ چاہتے ہیں، تو ہمیں ان مسائل کا سامنا کرنا ہوگا، آواز اٹھانی ہوگی، اور تعلیم و شعور کو عام کرنا ہوگا۔
چند ضروری اقدامات:
-
تعلیم و شعور کی فراہمی: بچیوں کو اپنے حقوق کے بارے میں سکھائیں تاکہ وہ بروقت آواز بلند کر سکیں۔
-
خاندانی اعتماد: بیٹی ماں یا باپ سے اپنی بات کہنے سے نہ گھبرائے، یہ ماحول گھر سے شروع ہوتا ہے۔
-
قانونی مدد: خواتین کو قانون کے تحت تحفظ حاصل ہے۔ ایسے واقعات پر قانونی کارروائی ضرور کریں۔
-
اداروں کی جوابدہی: اسپتال، اسکول یا دفتر جیسے اداروں میں شکایات کے نظام کو مؤثر بنایا جائے۔
اختتامیہ
اگر میری ماں خاموش رہتی، تو شاید میں کبھی دوبارہ کسی ڈاکٹر پر اعتماد نہ کر پاتی۔ لیکن اُس نے سکھایا کہ سچ بولنا کمزوری نہیں، ہمت ہے۔ آج میں چاہتی ہوں کہ ہر بیٹی، ہر ماں، اور ہر باپ اس پیغام کو سمجھے کہ:
“خاموشی، ظلم کی حمایت ہوتی ہے۔ بولیے، آگاہ کیجیے، اور حق کے ساتھ کھڑے رہیے۔”

