جب میرے شوہر پر دیس جانے لگے تو انہوں نے جاتے وقت ایک ذمہ داری میرے سپرد کی جو بظاہر تو چھوٹی سی تھی، لیکن دراصل وہ میرے صبر، خلوص اور تربیت کا اصل امتحان بننے والی تھی۔
“میں اپنی چھوٹی بہن کو تمہارے سپرد کر رہا ہوں۔ وہ ابھی تیرہ سال کی ہے۔ بس چند ماہ ہمارے ساتھ رہے گی، پھر امی اسے گاؤں واپس لے جائیں گی۔”
میں مسکرا کر بولی، “آپ بے فکر رہیں، میں اسے اپنی بیٹی کی طرح رکھوں گی۔”
اور پھر واقعی میں نے اسے بیٹی ہی سمجھا۔
وہ چھوٹی سی بچی تھی، اپنے والدین کے سائے سے دور، نازک دل اور معصوم ذہن کے ساتھ ایک نیا ماحول دیکھ رہی تھی۔ وہ نہ میری بیٹی تھی، نہ بہن، مگر میں نے کبھی اس کے ساتھ سوتن جیسا سلوک نہ کیا۔ نہ اسے “شوہر کی بہن” سمجھ کر حسد کا نشانہ بنایا، نہ اس کی چھوٹی چھوٹی باتوں کو انا کا مسئلہ بنایا۔
صبح اسکول تیار کرنا، ناشتہ دینا، اس کے کپڑے پریس کرنا، اس کے بال بنانا، سب کچھ میری روزمرہ کی ذمہ داری بن گیا۔ شروع میں مجھے کچھ مشکلات ہوئیں، مگر میں نے اسے اللہ کی طرف سے امتحان اور نیکی کا موقع سمجھ کر صبر کیا۔
ایک دن وہ میرے گلے لگ کر کہنے لگی:
“بھابھی، مجھے لگتا ہے آپ مجھے امی سے بھی زیادہ پیار کرتی ہیں۔”
یہ الفاظ میری روح کو سکون دے گئے۔ اس دن میں نے جانا کہ رشتے خون سے نہیں، بلکہ حسنِ سلوک سے بنتے ہیں۔
آج وہ لڑکی جوان ہو چکی ہے۔ میری تربیت، محبت، اور عزت اس کی شخصیت کا حصہ بن چکی ہیں۔ جب میرے اپنے بچے بڑے ہوئے، تو وہ ان کے لیے ایک آئیڈیل بہن بن چکی تھی۔
سبق:
-
نند یا دیورانی، ساس یا بہو… یہ سب رشتے اگر “فرض” نہیں بلکہ “خدمت” سمجھ کر ادا کیے جائیں، تو محبت کی خوشبو ہر طرف پھیلتی ہے۔
-
ہمیں اپنے گھروں میں چھوٹے بچوں یا نوجوانوں کے ساتھ رحمت، تربیت اور محبت کا رویہ اپنانا چاہیے تاکہ وہ اخلاقی اور باعمل مسلمان بن سکیں۔
-
بھابھی اور نند کا رشتہ اکثر غلط فہمیوں کا شکار ہو جاتا ہے، لیکن اگر نیت صاف ہو، دل بڑا ہو، تو یہ رشتہ ماں بیٹی سے کم نہیں رہتا۔

