شیخ بغیر اطلاع سعودی عرب سے گھر لوٹے، ان کی بیوی ایک انجان شخص کے ساتھ…
شیخ احمد پچھلے چار سال سے سعودی عرب میں مقیم تھے۔ ان کا تعلق پاکستان کے ایک چھوٹے سے شہر سے تھا۔ وہ رزقِ حلال کمانے کے لیے وطن سے دور تھے، مگر دل ہر لمحہ گھر، بیوی اور بچوں کے ساتھ جڑا ہوا تھا۔ وہ اپنی بیوی رافعہ سے بےحد محبت کرتے تھے اور ہر مہینے باقاعدگی سے گھر خرچ بھیجتے، بچوں کی تعلیم کے اخراجات پورے کرتے، اور خود ایک کمرے کے مکان میں گزارہ کرتے۔ ان کا خواب تھا کہ وہ پیسے بچا کر واپس لوٹیں، اور اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ خوشحال زندگی گزاریں۔
اچانک واپسی — بغیر اطلاع کے
شیخ احمد نے فیصلہ کیا کہ وہ اس بار بغیر اطلاع دیے گھر واپس جائیں گے، تاکہ بیوی بچوں کو حیرت میں ڈالیں۔ ان کا خیال تھا کہ جب وہ اچانک دروازہ کھولیں گے تو سب خوشی سے اُن پر جھپٹ پڑیں گے، بچے گلے لگیں گے، اور بیوی آنکھوں میں آنسو لے کر ان کا استقبال کرے گی۔
لیکن جب وہ گھر پہنچے، تو دروازہ کھلا ہوا تھا۔ وہ دبے پاؤں اندر داخل ہوئے۔ کمرے سے ہنسی کی آوازیں آ رہی تھیں۔ تھوڑا قریب جا کر دیکھا تو ان کی بیوی رافعہ ایک اجنبی مرد کے ساتھ بیٹھ کر باتیں کر رہی تھی۔ شیخ احمد کا دل دھڑکنے لگا۔ وہ حیران، پریشان، اور غصے سے بھر گئے، مگر انہوں نے تحمل سے کام لیا اور کمرے میں داخل ہوئے۔
سچائی کا انکشاف
جب وہ اندر گئے تو بیوی نے چونک کر انہیں دیکھا، اور فوراً کھڑی ہو گئی۔ وہ شخص بھی اُٹھا اور مؤدب انداز میں سلام کیا۔ شیخ احمد نے ضبط سے کام لیتے ہوئے پوچھا، “یہ کون ہے؟”
بیوی نے جلدی سے وضاحت دی، “یہ میرے بھائی کا دوست ہے، جو ہمارے محلے کے بزرگوں کی مدد کے لیے آیا ہے۔ محلے میں ایک خاتون بیمار تھیں، میں ان کے لیے دوا منگوانے کے لیے اسے بلائی تھی۔”
شیخ احمد نے ساری صورتحال کو سمجھا۔ انہوں نے تصدیق کی تو پتا چلا کہ واقعی یہ شخص نیکی کی نیت سے آیا تھا۔ بیوی نے غلط فہمی سے بچنے کے لیے سب کچھ صاف صاف بتا دیا۔ شیخ احمد کو اپنی جلد بازی پر شرمندگی محسوس ہوئی، لیکن انہوں نے اس تجربے سے ایک سبق سیکھا۔
نتیجہ: اعتماد، وضاحت اور برداشت — رشتوں کی بنیاد
یہ کہانی ہمیں ایک بہت بڑی حقیقت سمجھاتی ہے: رشتے اعتماد سے جیتے جاتے ہیں، شک سے نہیں۔ شیخ احمد کی نیت صاف تھی، محبت سچی تھی، مگر اگر وہ بغیر تحقیق کے کوئی سخت قدم اٹھاتے تو شاید رشتہ ٹوٹ جاتا۔
بیوی کا کردار بھی قابلِ تعریف تھا کہ اس نے فوراً وضاحت دی، سچ بولا، اور معاملے کو بگاڑنے سے بچایا۔ آج کے معاشرے میں ایسے بہت سے واقعات صرف غلط فہمی، شک یا جلد بازی کے باعث بگڑ جاتے ہیں۔
پیغام:
اگر آپ کا کوئی قریبی باہر رہتا ہے، تو اس سے رابطہ رکھیں، اس کی غیر موجودگی میں اپنی زندگی کو باوقار اور سادہ رکھیں۔ اور اگر آپ خود بیرونِ ملک ہیں، تو گھر والوں پر اعتماد رکھیں۔ شک سے رشتے ٹوٹتے ہیں، جبکہ برداشت، تحقیق اور صبر سے بگڑے ہوئے تعلقات بھی سنور سکتے ہیں۔

