Site icon پلیب ٹائمز

میری بہن کے مرنے کے بعد میں نے اپنے بھانجے کو پالنا شروع کیا۔ مجھے اپنے بہنوئی

میری بہن کے مرنے کے بعد میں نے اپنے بھانجے کو پالنا شروع کیا

میری بہن کے مرنے کے بعد میں نے اپنے بھانجے کو پالنا شروع کیا۔ مجھے اپنے بہنوئی سے متعلق جو سیکھنے کو ملا، وہ زندگی بھر کا سبق ہے
زندگی کی راہیں کبھی ہموار اور کبھی پُر خار ہوتی ہیں۔ کچھ رشتے آزمائش کی گھڑیوں میں اپنے اصلی رنگ دکھاتے ہیں۔ ایسا ہی ایک تجربہ میری زندگی میں اُس وقت آیا جب میری پیاری بہن کا اچانک انتقال ہو گیا۔ وہ ایک خوش اخلاق، ہنس مکھ اور محبت کرنے والی ماں تھی۔ اس کا ایک چھوٹا سا بیٹا تھا، صرف چار برس کا، جو اپنی ماں سے بہت مانوس تھا۔

بہن کی وفات کے بعد بھانجے کی پرورش کی ذمہ داری قدرتی طور پر مجھ پر آن پڑی۔ میں نے دل سے یہ فرض قبول کیا کیونکہ میری بہن کی نشانی مجھے بے حد عزیز تھی۔ لیکن اس سفر میں مجھے اپنے بہنوئی کی شخصیت، رویے، اور زندگی کے کئی کٹھن پہلوؤں سے واسطہ پڑا، جن سے بہت کچھ سیکھنے کو ملا۔

جذباتی بوجھ اور بھانجے کی پرورش
شروع میں بھانجے کے لیے ماں کی جدائی کو سہل بنانا سب سے بڑی آزمائش تھی۔ ایک چھوٹے بچے کو سمجھانا کہ ماں اب کبھی واپس نہیں آئے گی، میرے لیے بھی دردناک تھا۔ لیکن وقت کے ساتھ ساتھ، پیار، توجہ اور صبر سے ہم نے اس خلا کو پر کرنے کی کوشش کی۔ بھانجا آہستہ آہستہ میرے ساتھ مانوس ہو گیا، اور میں نے اُسے ہمیشہ اپنے بچے کی طرح چاہا۔

بہنوئی کا کردار اور رویہ
ابتداء میں میرے بہنوئی نے بھی ساتھ دینے کا وعدہ کیا۔ وہ بظاہر سنجیدہ اور غمزدہ دکھائی دیتا تھا، لیکن وقت کے ساتھ ساتھ اس کا رویہ بدلنے لگا۔ اس نے بچے سے دوری اختیار کر لی، مالی امداد بند کر دی، اور اپنی زندگی میں مصروف ہو گیا۔ کئی بار ایسا محسوس ہوا کہ وہ اس ذمے داری سے چھٹکارا حاصل کرنا چاہتا ہے۔ مجھے اس بات کا صدمہ بھی ہوا اور حیرت بھی، کیونکہ وہی شخص کبھی میری بہن سے بہت محبت کا دعویٰ کرتا تھا۔

زندگی کا سبق
اس ساری صورتحال سے میں نے ایک بڑی سچائی سیکھی: اصل رشتے وہی ہوتے ہیں جو دکھ سکھ میں ثابت قدم رہیں۔ ایک مرد کا کردار صرف الفاظ میں نہیں، عمل میں دکھائی دیتا ہے۔ مجھے احساس ہوا کہ خونی رشتوں سے بڑھ کر وہ لوگ ہوتے ہیں جو خلوص، قربانی اور احساس سے جڑے ہوں۔

بھانجے کی خاطر قربانی
میں نے اپنی نوکری کے اوقات بدلے، اپنی ذاتی زندگی کی ترجیحات کو پیچھے رکھا، تاکہ بھانجے کی بہتر تعلیم و تربیت ہو سکے۔ اس کے اسکول، صحت اور جذباتی نشوونما کے لیے دن رات ایک کیا۔ کئی بار تنقید بھی سنی، لیکن میرے دل میں صرف ایک مقصد تھا — میری بہن کا بیٹا ایک باعزت، باشعور انسان بنے۔

اختتامیہ
آج وہی بچہ، جس کی آنکھیں ماں کے غم میں نم تھیں، ایک ذہین، خوش اخلاق نوجوان بن چکا ہے۔ اس کی کامیابی میری زندگی کی سب سے بڑی خوشی ہے۔ میرے بہنوئی نے جو فرض چھوڑا، اسے پورا کر کے میں نے نہ صرف اپنی بہن کی روح کو سکون دیا، بلکہ خود کو بھی ایک بہتر انسان پایا۔

ہماری زندگی میں کئی بار مشکلات آتی ہیں، لیکن وہی لمحات ہمیں اپنی اصل پہچان دیتے ہیں۔ میں آج فخر سے کہہ سکتی ہوں: رشتہ خون سے نہیں، احساس سے بنتا ہے۔

Exit mobile version