سعودی خواتین خود اپنے مردوں کی دوسری شادی کیوں کراتی ہیں؟
دنیا کے مختلف معاشروں میں شادی کا تصور، روایات، اور طرزِ زندگی مختلف ہوتے ہیں۔ خاص طور پر مشرقِ وسطیٰ، اور بالخصوص سعودی عرب جیسے ممالک میں شادی نہ صرف ایک ذاتی معاملہ ہے بلکہ خاندانی، سماجی اور مذہبی پہلوؤں سے بھی جُڑا ہوتا ہے۔ سعودی عرب میں جہاں ایک سے زائد شادیوں کی اجازت شریعتِ اسلامی کی روشنی میں موجود ہے، وہاں ایک دلچسپ رجحان یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ بعض سعودی خواتین خود اپنے شوہروں کی دوسری شادی کراتی ہیں۔
یہ بات بظاہر حیرت انگیز لگتی ہے، لیکن اس کے پیچھے کئی معاشرتی، مذہبی اور عملی وجوہات کارفرما ہوتی ہیں۔
1. مذہبی تعلیمات اور قبولیت
سعودی معاشرہ گہرے مذہبی نظریات پر مبنی ہے۔ اسلام میں مرد کو مخصوص شرائط کے ساتھ چار شادیوں کی اجازت ہے، بشرطیکہ وہ انصاف کرے۔ کئی سعودی خواتین اس حقیقت کو مذہبی طور پر قبول کرتی ہیں اور جب وہ کسی مجبوری یا ضرورت کی بنا پر خود کسی دوسری عورت کو گھر میں لانے کی اجازت دیتی ہیں، تو وہ اسے ایک ثواب کا عمل بھی سمجھتی ہیں۔
2. طبی یا جسمانی مجبوری
کئی مرتبہ خواتین کسی طبی مسئلے، بانجھ پن یا کمزوری کی وجہ سے شوہر کو اولاد نہ دے سکیں، تو وہ خود شوہر کو مشورہ دیتی ہیں کہ وہ دوسری شادی کر لیں تاکہ اولاد کی نعمت حاصل ہو۔ ایسی خواتین اس فیصلے کو قربانی سمجھ کر قبول کرتی ہیں تاکہ شوہر کو ایک مکمل خاندانی زندگی مل سکے۔
3. مالی طور پر مستحکم ہونا
سعودی مرد اکثر مالی طور پر مضبوط ہوتے ہیں، خاص طور پر اگر وہ کاروباری ہوں یا حکومت کے کسی شعبے سے وابستہ ہوں۔ خواتین کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کے شوہر دوسری بیوی کی کفالت بھی بخوبی کر سکتے ہیں۔ اسی لیے وہ اس پر اعتراض نہیں کرتیں، بلکہ خود ہی مشورہ دے دیتی ہیں۔
4. سماجی دباؤ اور خاندانی ذمہ داری
کبھی کبھار خاندان کی بڑی خواتین، جیسے ساس یا نند، اپنی مرضی سے دوسری شادی کراتی ہیں تاکہ خاندان میں کسی رشتہ دار کی بیٹی کو گھر مل جائے۔ بعض خواتین اس فیصلے کو معاشرتی ہم آہنگی کے تحت قبول کر لیتی ہیں۔
5. ازدواجی امن اور شریکِ حیات کی خوشی
ایسی خواتین بھی ہوتی ہیں جو اپنے شوہر کی خوشی اور تسکین کو اہمیت دیتی ہیں۔ اگر وہ محسوس کریں کہ ان کی غیر موجودگی یا کسی مجبوری کی وجہ سے شوہر ادھورا محسوس کرتا ہے، تو وہ خود ہی شوہر کی دوسری شادی کا انتظام کر دیتی ہیں تاکہ رشتہ برقرار رہے اور شوہر خوش رہ سکے۔
6. وقت کی کمی یا بیرونِ ملک موجودگی
کچھ سعودی مرد کاروبار یا سرکاری فرائض کی وجہ سے کئی کئی دن یا مہینے بیرونِ ملک رہتے ہیں۔ ایسی صورتحال میں بعض خواتین شوہر کی جذباتی یا جسمانی ضروریات کے پیشِ نظر رضامند ہو جاتی ہیں کہ وہ دوسری شادی کر لے۔
نتیجہ
سعودی خواتین کی جانب سے شوہروں کی دوسری شادی کرانا، ایک عام رجحان نہیں بلکہ مخصوص حالات، سوچ اور مذہبی پس منظر کے تحت ایک شعوری فیصلہ ہوتا ہے۔ یہ نہ صرف ان کے دینی شعور کو ظاہر کرتا ہے بلکہ ان کے عملی طرزِ فکر کی بھی عکاسی کرتا ہے۔
اگرچہ ہر عورت کی سوچ، احساسات اور رویہ مختلف ہو سکتا ہے، مگر سعودی معاشرے میں اس معاملے کو جذباتی سے زیادہ عملی اور دینی زاویے سے دیکھا جاتا ہے۔

