یہ کہانی اُس رات کی ہے جب میں کام سے واپس آرہا تھا۔ وقت تقریباً دو بجے کا تھا، اور کراچی کی سڑکیں سنسان تھیں۔ میں نے اچانک ایک طرف دیکھا تو وہاں ایک کم عمر، تقریباً 16 سال کی لڑکی بیٹھی ہوئی نظر آئی۔ اُس کا چہرہ خوف اور بے بسی سے بھرا ہوا تھا۔
میں نے گاڑی روکی اور احتیاط سے اُس کے قریب گیا۔ اُس نے مجھے دیکھا تو اُس کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ میں نے نرمی سے پوچھا:
“بیٹا، اس وقت یہاں کیا کر رہی ہو؟ تمہارے ساتھ کوئی ہے؟”
اُس نے ڈرتے ہوئے بتایا:
“انکل، میں لاہور سے کراچی آئی تھی اپنے رشتہ داروں کے پاس، لیکن وہ مجھے لینے نہیں آئے۔ میرا موبائل بھی بند ہوگیا ہے۔ میں نہیں جانتی کہ کہاں جاؤں۔”
یہ سن کر میرے دل کو بہت دکھ ہوا۔ میں نے اُس سے کہا:
“فکر مت کرو بیٹا، میں تمہیں پولیس اسٹیشن چھوڑ دیتا ہوں، وہاں سے وہ تمہارے گھر والوں کو اطلاع دیں گے۔”
میں اُسے قریبی پولیس اسٹیشن لے گیا، جہاں پولیس اہلکاروں نے فوراً اُس کے والدین سے رابطہ کیا۔ اُس لڑکی کو دیکھ کر میرا دل کانپ اٹھا کہ آج کل کے دور میں کتنی معصوم بچیاں اغوا یا کسی غلط کام کا شکار ہو جاتی ہیں۔
یہ کہانی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ اگر ہم کسی کو مصیبت میں دیکھیں تو فوراً اُس کی مدد کریں اور کبھی بھی غفلت نہ کریں۔ خاص طور پر کم عمر بچیوں کو رات کے وقت تنہا دیکھ کر اُن کی حفاظت کرنا ہر شہری کا فرض ہے۔
اہم نوٹ:
یہ ایک سبق آموز فرضی کہانی ہے جس کا مقصد معاشرے میں انسانیت، ہمدردی اور ذمہ داری کو فروغ دینا ہے۔ اگر آپ کو ایسے مضامین مزید درکار ہوں تو ضرور بتائیں! 🌟

