Site icon پلیب ٹائمز

قوم کو یقین دلاتا ہوں کہ ہمارا جواب ادھورا نہیں ہوگا

قوم کو یقین دلاتا ہوں کہ ہمارا جواب ادھورا نہیں ہوگا

اسرائیل نے جنگ کا آغاز کیا، ایران بھرپور جوابی کارروائی کرے گا: خامنہ‌ای نے اعلان کیا کہ اسرائیلی اقدامات کا “ادھورا” جواب نہیں دیا جائے گا، بلکہ “بھرپور اور مناسب” جواب دے کر ان کی کارروائیوں کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا ۔
فوجی اہداف پر کارروائی کا عندیہ: آیت اللہ نے واضح پیغام دیا کہ اسرائیل میں کوئی مقام محفوظ نہیں رہے گا، “ہماری زد میں فوجی اڈے اور حساس مقامات آئیں گے”
ترکیب: یہ بیان اردگرد کے نام نہاد محدود ردعمل یا نصف جوابی طور پر لے جانے کے بجائے، مکمل اور ضروری جوابی حملوں کے ارادے کا عکاس ہے۔
📌 کیا یہ صرف بیانیہ ہے یا عملی قدم بھی؟
ایرانی پاسداران انقلاب (IRGC) نے بھی اس بیان کی تائید کرتے ہوئے کہا:
“سپریم لیڈر کے حکم پر فورا اسرائیلی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا گیا ہے”
یہ اشارہ ایک واضح اقدام کی نشاندہی کرتا ہے کہ ایران نے اس کشیدگی کا عملی طور پر جواب دینا شروع کر دیا ہے۔
🔍 تجزیہ:
ایران کا مؤقف اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ:
نظریاتی اعتماد: ایٹمی صلاحیت والے ملک کی حیثیت سے، ایران اپنی سالمیت اور اثرورسوخ کے تحفظ کے لیے جارحانہ دفاعی پالیسی ترجیح دیتا ہے۔
اسٹریٹیجک پیغام: “ادھورا جواب نہیں” ایک مضبوط اور بنیادی پیغام ہے، جو سفارتی، عسکری اور عوامی موقف کی یکجہتی کو ظاہر کرتا ہے۔
اقدامی صفر روکردار: محض بیان تک محدود نہ رہنا، بلکہ اس کی تائید میں جوابی کارروائی سے سیاسی و عسکری تحلیل میں سنجیدگی کا اظہار کیا گیا۔
بات کا خلاصہ:
آیت اللہ خامنہ‌ای کا پیغام واضح ہے کہ ایران کسی بھی حملے کو معمولی یا جزوی ردعمل سے نہیں لے گا۔ ان کا جواب جامع، مکمل اور مضبوط ہوگا — اور اس کا عملی اظہار پاسداران انقلاب کے اقدام سے ہوچکا یا ہو رہا ہے۔

Exit mobile version