رات کی تنہائی میں جب ساری دنیا خوابوں میں گم ہو جاتی ہے، تب میاں بیوی کے درمیان صرف ایک بستر نہیں ہوتا، بلکہ جذبات کا ایک خاموش سمندر ہوتا ہے۔ اگر بیوی سوتے وقت شوہر کی طرف پیٹھ کر کے سو جائے، تو کیا یہ صرف ایک آرام دہ انداز ہے؟ یا دل کی کسی ان کہی کی کہانی؟
یہ انداز کبھی تھکن کا نتیجہ ہوتا ہے، کبھی لاشعوری فاصلے کا، اور کبھی ایک خاموش احتجاج کا۔ اگر بیوی مسلسل شوہر سے منہ موڑ کر سو رہی ہو، تو یہ وقت ہے سوچنے کا، سمجھنے کا اور دل سے دل کی بات کرنے کا۔
عورت جذبات کی ایک دنیا ہوتی ہے۔ وہ الفاظ سے زیادہ انداز میں بولتی ہے، نظر سے سناتی ہے اور خاموشی سے شکایت کرتی ہے۔ اگر شوہر یہ نہ سمجھے، تو رشتہ جسمانی طور پر ساتھ ہوتے ہوئے بھی روحانی طور پر دور ہو جاتا ہے۔
اگر شوہر بیوی کے قریب ہونے کی کوشش کرے، اُس کا ہاتھ تھام لے، اُس کی پیشانی چومے، یا محض یہ کہے “کیا ہوا؟ تم ٹھیک ہو؟” — تو عورت کا دل وہیں پگھل جاتا ہے۔
عورت کو لمس سے زیادہ احساس کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایک توجہ بھرا لمس، ایک محبت بھری نگاہ، اور ایک سادہ سا جملہ — “میں تمہیں سمجھنا چاہتا ہوں” — کافی ہوتا ہے تعلق کو دوبارہ زندگی دینے کے لیے۔
لہٰذا اگر بیوی رات کو آپ سے منہ موڑ کر سوتی ہے، تو اگلی رات آپ اس کے قریب ہو جائیے، اور اُس کے دل کے دروازے پر ہلکی سی دستک دیجیے۔ ہو سکتا ہے وہ برسوں سے اسی دستک کی منتظر ہو۔

