ہر رشتہ جسمانی قربت سے پہلے ایک جذباتی ہم آہنگی مانگتا ہے، خاص طور پر جب بات شوہر اور بیوی کے مقدس تعلق کی ہو۔ عورت کا دل جلدی جیتا جا سکتا ہے، بس شرط یہ ہے کہ شوہر سمجھے کہ اصل کنجی جذبات کی ہوتی ہے، نہ کہ جلدبازی کی۔
جب ایک شوہر، بیوی کے قریب آنے سے پہلے، صرف اتنا کرے کہ اُس کے دل کو چھو لے — اُس کی باتوں کو توجہ سے سنے، اُس کی آنکھوں میں دیکھ کر ایک جملہ کہہ دے:
“تم میرے لیے خاص ہو”
تو عورت کے اندر جیسے بہار آ جاتی ہے۔ وہ خود کو محفوظ، محبوب اور مکمل محسوس کرنے لگتی ہے۔
عورت ایک پھول کی طرح ہوتی ہے۔ اسے اگر احساس، احترام اور نرمی سے چھوا جائے، تو وہ اپنی خوشبو سے سارا رشتہ مہکا دیتی ہے۔ لیکن اگر شوہر صرف جسم کو اہم سمجھے اور دل کو نظر انداز کرے، تو پھر یہ تعلق صرف ایک رسم رہ جاتا ہے، محبت نہیں۔
اصل قربت وہ ہوتی ہے جو لمس سے پہلے دل کو چھو لے، اور زبان سے پہلے آنکھوں سے بات کرے۔
لہٰذا اگلی بار، جب آپ اپنی بیوی کے قریب ہوں، تو اس کے دل کا دروازہ پہلے کھولیں… کیونکہ جب عورت کا دل پگھلتا ہے، تب ہی وہ خود کو مکمل طور پر شوہر کے حوالے کرتی ہے — نہ صرف جسم سے، بلکہ دل و جان سے بھی۔

