ہمسائے کا رشتہ ہم سب کی زندگی کا حصہ ہے۔ اسلام اور مشرقی روایات میں ہمسائے کو بلند مقام دیا گیا ہے۔ نبی اکرم ﷺ کا فرمان ہے:
“جبرائیلؑ ہمسائے کا حق اس قدر تلقین کرتے رہے کہ مجھے گمان ہوا جیسے ہمسائے کو وارث قرار دیا جائے گا۔”
یعنی ہمسائے کا حق اتنا بڑا ہے کہ اس کی عزت، جان اور مال کی حفاظت ہم سب پر لازم ہے۔ لیکن حال ہی میں پیش آنے والا واقعہ اس بات کا دردناک ثبوت ہے کہ ہم اس درس کو بھولتے جا رہے ہیں۔
دردناک واقعہ
ایک محلے میں ایک نوجوان نے ہمسائے کی بیٹی کی عزت پامال کی۔ یہ خبر پھیلتے ہی محلے میں غم اور بے چینی کی لہر دوڑ گئی۔ لوگوں نے اس عمل کو ہمسائے کا سب سے بڑا دھوکا قرار دیا۔ اس واقعے نے محلے کی بنیاد تک کو ہلا دیا، کیونکہ ہمسائے کا مطلب اعتماد، تحفظ اور احترام ہے۔
اس واقعے کا سبق
یہ واقعہ محض دو افراد کا معاملہ نہیں، بلکہ پورے معاشرے کا المیہ ہے۔ ہم سب پر لازم ہے کہ ہم اپنے بچوں کی تربیت اس انداز میں کریں کہ وہ ہمسائے اور دیگر لوگوں کا احترام کرنا سیکھیں۔ ہمسائے کا تقدس پامال کرنے والا کبھی سکون اور عزت حاصل نہیں کر سکتا۔
ہم سب کی ذمہ داری
-
تربیت کا اہتمام: بچوں اور نوجوانوں کو ہمسائے اور محلے کی عزت کرنا سکھائیں۔
-
نگہبانی: محلے میں مشکوک یا غیر اخلاقی رویے پر نظر رکھیے۔
-
قانونی اقدامات: ایسے جرائم پر قانون کا سہارا لینا لازم ہے تاکہ انصاف کا بول بالا ہو۔
-
اسلامی اقدار کو اپنائیں: ہمسائے کا حق جاننے اور اس پر عمل کرنے کا عہد کریں۔
نتیجہ
ہمسائے کا رشتہ محض جغرافیائی حدود تک محدود نہیں، بلکہ یہ اعتماد اور اخلاقیات کا مضبوط بندھن ہے۔ یہ دردناک واقعہ ہم سب کو متنبہ کرتا ہے کہ ہم اس رشتے کو مضبوط بنائیں، کیونکہ ہمسائے کا احترام کرنے والا اللہ کی رضا پاتا ہے۔

