ایک چھوٹے سے گاؤں کا سادہ سا منظر تھا، جہاں شادی کی تقریب بھرپور انداز میں چل رہی تھی۔ دلہن کے چہرے پر حیا کا نور تھا اور دلہن کا باپ، بیٹی کو رخصت کرنے کی تیاریوں میں مصروف تھا۔ سب کچھ ٹھیک چل رہا تھا، لیکن عین نکاح کے وقت ایسی شرط رکھی گئی، جو کسی نے کبھی سوچی بھی نہ تھی!
لڑکے والوں کا غیر متوقع مطالبہ
نکاح کی رسم شروع ہوتے ہی لڑکے والوں نے سب کی آنکھوں کے سامنے کہا:
“نکاح تب ہوگا جب ہم کو نئے ماڈل کا ٹریکٹر دیا جائے گا!”
یہ بات سن کر محفل میں سناٹا چھا گیا۔ دلہن کا باپ، جو پہلے ہی بیٹی کی شادی کا بوجھ اٹھاتے ہوئے تھکا ہوا تھا، آنکھوں میں آنسو بھر لایا۔
باپ کی بے بسی اور درد
باپ، جس نے ساری زندگی محنت مزدوری کر کے بیٹی کا جہیز تیار کیا تھا، یہ مطالبہ سن کر گم صم ہو گیا۔ چہرے پر درد اور بے بسی کے آثار نمایاں ہو گئے۔ کچھ لمحے تک خاموش رہا، پھر لرزتے ہوئے ہونٹوں سے بولا:
“میری بیٹی کا حق تو عزت اور پیار ہے… یہ ٹریکٹر کی قیمت کب بن گئی؟”
ہال میں چھا گیا سناٹا
یہ بات سنتے ہی محفل میں موجود لوگوں کی آنکھیں بھر آئیں۔ کچھ بڑے لوگوں نے فوراً مداخلت کی اور لڑکے والوں کو سمجھاتے ہوئے کہا:
“رشتے لین دین یا لالچ کی بنیاد پر نہیں، محبت اور احترام کی بنیاد پر بنائے جاتے ہیں۔”
کیا ہوا آخر میں؟
معاملہ لوگوں کی مداخلت اور دلہن کے والد کی درد بھری التجا پر سلجھ گیا۔ لڑکے والوں نے شرائط واپس لیں اور نکاح سادگی اور پیار بھرے انداز میں انجام پایا۔
ایک سبق ہم سب کے لیے
یہ واقعہ ہم سب کو یہ سبق دیتا ہے کہ شادی محض لین دین یا مادی خواہشات کی تکمیل کا ذریعہ نہیں۔ یہ دو خاندانوں کا ملاپ ہے، محبت اور احترام کا رشتہ ہے۔ اگر ہم اس نیک بندھن کو لالچ یا مادی تقاضوں کی نذر کر دیں گے تو ہم نئے رشتے کی بنیاد مضبوط کرنے کی بجائے اس میں دراڑ ڈال دیں گے۔

