ملتان کی گلیوں میں یہ خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔ 90 سالہ بزرگ کی شادی 25 سالہ جوان لڑکی سے ہو گئی۔ محلے بھر میں چہ مگوئیاں شروع ہو گئیں۔ لوگوں کا کہنا تھا:
“یہ شادی کیسے چلی گی؟”
“کیا یہ بزرگ اس عمر میں…”
اور طرح طرح کی باتوں کا سلسلہ چلنے لگا۔
نکاح تو ہو گیا، لیکن…
شادی کی رات جیسے جیسے قریب آنے لگی، بزرگ کی دھڑکن تیز ہوتی گئی۔ کمرے میں قدم رکھنے کا خیال کرتے ہی اس کا چہرہ زرد پڑنے لگا۔ عمر کا بوجھ، لوگوں کی باتوں کا خوف، اور دل کی دھڑکن – سب کچھ اس رات اس کا امتحان بن گیا۔
کمرے کے باہر قدم روک لیے
بالآخر جب محفل ختم ہوئی تو بزرگ کمرے کی طرف چلے، لیکن دروازے تک پہنچتے ہی قدم رک گئے۔ دل نے کہا:
“کیا میں اس قابل ہوں؟”
“کیا میں اس لڑکی کو خوش رکھ پاؤں گا؟”
خود سے یہ سوال کرتے ہوئے بزرگ کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے۔
ایک غیر متوقع موڑ
کمرے کا دروازہ کھلا اور جوان دلہن نے مسکرا کر کہا:
“بابا جی، ہم میاں بیوی نہیں، ہم دو دوست بن سکتے ہیں۔ عمر کی قید ہم دونوں کی محبت اور عزت پر نہیں ہے۔”
یہ سن کر بزرگ کی آنکھوں سے آنسو رواں ہو گئے۔ دلہن کی یہ بات اس کی زندگی کا سب سے خوبصورت لمحہ بن گئی۔
حاصلِ کلام:
عمر محض ایک عدد ہے، محبت اور احترام کا رشتہ دلوں کو جوڑتا ہے۔ یہ واقعہ ہم سب کو سکھاتا ہے کہ سچے رشتے عمر اور شکل سے نہیں، بلکہ احساس اور عزت سے مضبوط ہوتے ہیں۔

