ماسکو کی سرد ہواؤں میں اس ملاقات کی گرمی پوری دنیا تک محسوس کی گئی۔ ایران کے وزیر خارجہ کا روسی صدر پوتن سے اچانک ملنا، واشنگٹن اور تل ابیب کی نیندیں اڑا گیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں رہنماؤں نے ایسی باتوں پر اتفاق کیا ہے، جن کا اثر مشرق وسطیٰ کی سیاست کا نقشہ بدل سکتا ہے۔
ملاقات کا مقصد کیا تھا؟
اطلاعات کے مطابق اس تاریخی ملاقات کا مقصد ایران اور روس کے مابین اسٹریٹجک معاہدوں کو مزید مضبوط کرنا تھا۔ دونوں رہنما مشرق وسطیٰ میں بدلتے ہوئے حالات اور اسرائیل کی جارحانہ پالیسی پر تفصیل سے تبادلہ خیال کرتے رہے۔
امریکہ اور اسرائیل کی پریشانی
حکام کا کہنا ہے کہ ایران اور روس کا گٹھ جوڑ، خاص طور پر دفاع اور سیکیورٹی کے میدان میں، امریکہ اور اسرائیل کو سخت تشویش میں ڈال چکا ہے۔ پینٹاگون اور تل ابیب میں اس ملاقات کی گہرائی پر فوری بریفنگز بلائی گئی ہیں۔
خطے کا مستقبل کیا ہو سکتا ہے؟
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ ملاقات مشرق وسطیٰ میں نئے محاذ کھول سکتی ہے۔ روس اور ایران کا قریب آنا اسرائیل اور امریکہ کی حکمتِ عملی کو چیلنج کر سکتا ہے۔ آنے والا وقت بتائے گا کہ یہ دو طاقتور ملک خطے کی تقدیر کا رُخ کس طرف موڑتے ہیں۔
حاصلِ کلام:
ماسکو میں ہونے والی اس ہنگامی ملاقات نے پوری دنیا کو چونکا دیا ہے۔ ایران اور روس کی اس قربت کا مطلب خطے میں نئے اتحاد اور نئے چیلنجز کا آغاز ہو سکتا ہے۔

