ایک چھوٹے سے گاؤں میں رہنے والی سادہ سی عورت، دل میں بے شمار خواہشات اور مسائل لیے، گاؤں کے مشہور پیر صاحب کے آستانے پر جا پہنچی۔ اس کی آنکھوں میں آنسو اور لبوں پر دعا کا نام تھا۔ پیر صاحب نے توجہ سے اس کی بات سنی، اس کا حال جانا اور پھر کہا:
🌙 1. نیک نیتی اور وضو کا طریقہ بتایا
پیر صاحب نے کہا: “بیٹی! اللہ کی راہ میں دعا کرنے سے قبل نیت کو خالص کر لو، وضو کر کے دو نفل نماز پڑھو۔ دعا میں عاجزی اور یقین سب سے بڑی کنجی ہے۔”
🌼 2. کچھ خاص وظائف سکھائے
انہوں نے عورت کو چند قرآنی سورتوں اور اللہ کے بابرکت ناموں کا ورد کرنے کا طریقہ بتایا۔ فرمایا: “یہ عمل 41 دن تک بلا ناغہ کرو، اللہ نے چاہا تو تیری مراد پوری ہو گی۔”
🌷 3. اللہ پر توکل کا درس دیا
پیر صاحب نے کہا: “یاد رکھو! اللہ کی ذات سے مایوس مت ہو۔ اس کی رحمت اور کرم کی کوئی انتہا نہیں۔ دل سے دعا کرتے رہو، اللہ قبول کرنے والا ہے۔”
🌺 4. صبر اور مستقل مزاجی کا درس
“جو دعا میں ثابت قدم رہتا ہے، اللہ اس کی محنت اور سچے دل کی پکار کبھی رد نہیں کرتا۔ بس نیت صاف اور یقین پختہ رکھنا۔”
🌅 5. دعا اور عمل کا امتزاج
آخر میں فرمایا: “صرف دعا کرنا کافی نہیں، اللہ نے عمل کا راستہ بھی دیا ہے۔ محنت، محبّت اور نیک رویہ اپناؤ۔ اللہ کی مدد اور کرم ضرور نازل ہوگا۔”

