میں مجبور ہوں، شادی کرنا چاہتی ہوں، میری کوئی ڈیمانڈ نہیں، میں 26 سال کی ہوں، اپنی مرضی سے شادی کرنا چاہتی ہوں…
شادی ایک فطری ضرورت ہے، اور ہر انسان کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنی زندگی کے اہم فیصلے اپنی مرضی اور رضامندی سے کرے۔ مگر جب معاشرتی دباؤ، خاندان کی روایات، اور بے جا توقعات کسی فرد کے ذاتی فیصلوں پر غالب آ جائیں تو وہ شخص بے بس اور مجبور ہو جاتا ہے۔ یہ مضمون ایک ایسی لڑکی کی آواز ہے جو 26 سال کی ہو چکی ہے، زندگی کے اس مقام پر کھڑی ہے جہاں اسے سادگی سے اپنی زندگی کو خوشیوں سے بھرنے کا حق چاہیے، لیکن سماج کی پیچیدگیوں نے اس کی راہ مشکل بنا دی ہے۔
میں کون ہوں؟
میں ایک تعلیم یافتہ، خوددار، اور باوقار لڑکی ہوں۔ میری عمر 26 سال ہے، اور میں اب تک اپنی زندگی میں صبر اور حوصلے سے کام لیتی آئی ہوں۔ میں نے ہمیشہ یہ چاہا کہ میری شادی عزت، سمجھ داری، اور باہمی احترام کی بنیاد پر ہو۔ میں چاہتی ہوں کہ میرا ہمسفر میرا ساتھی ہو، میری عزت کرے، میرے جذبات سمجھے اور زندگی کو ایک خوبصورت سفر میں بدل دے۔
میری ڈیمانڈز کیا ہیں؟
میری کوئی مالی ڈیمانڈ نہیں۔ میں نہ جہیز مانگتی ہوں، نہ قیمتی تحائف، نہ بڑی شادی کی خواہش۔ میں صرف ایک عزت دار، بااخلاق اور سادہ انسان کی تلاش میں ہوں جو مجھے اپنائے، سمجھے اور میرے ساتھ وفاداری سے زندگی گزارے۔ لیکن بدقسمتی سے، ہمارے معاشرے میں جب لڑکیوں کی ڈیمانڈ نہ ہو تو لوگ اسے کمزور، کمتر یا “مجبور” سمجھتے ہیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں مجھے بے بسی محسوس ہوتی ہے۔
خاندان اور سماج کی توقعات
اکثر اوقات میرے رشتے صرف اس بنیاد پر رد کر دیے جاتے ہیں کہ ہمارے پاس “دینے” کو کچھ خاص نہیں۔ کچھ افراد میری تعلیم سے متاثر ہوتے ہیں، لیکن پھر پوچھتے ہیں کہ “جہیز میں کیا دیں گے؟” کچھ رشتے صرف اس لیے آتے ہیں کہ لڑکی کم مطالبہ کر رہی ہے، تو شاید وہ “قربانی” دے گی۔
یہ سوچ تکلیف دہ ہے، کیونکہ میں چاہتی ہوں کہ میری اہمیت میرے اخلاق، میری سوچ، اور میرے کردار سے ہو، نہ کہ مالی حیثیت یا خاندانی پس منظر سے۔
میری خواہش: اپنی مرضی سے شادی
میری سب سے بڑی خواہش ہے کہ میں اپنی مرضی سے، اپنی پسند سے، اور اپنی خوشی سے شادی کروں۔ ایسی شادی جو صرف رشتہ داری نہیں، بلکہ دو دلوں کی ہم آہنگی ہو۔ میں چاہتی ہوں کہ مجھے بھی وہ حق ملے جو ہمارے مذہب نے دیا ہے، جو آئین نے تسلیم کیا ہے، اور جو ہر انسان کا بنیادی حق ہے۔
پیغام برائے معاشرہ
اس معاشرے کو سوچنے کی ضرورت ہے کہ ہر لڑکی جس کی کوئی ڈیمانڈ نہیں، وہ “مجبور” نہیں ہوتی، وہ باہمت ہوتی ہے۔ وہ اپنے عزت نفس کے ساتھ زندگی گزارنے کی خواہشمند ہوتی ہے۔ ایسے لوگوں کو سہارا دینے کی ضرورت ہے، نہ کہ انہیں نظرانداز کرنے کی۔
اختتامیہ
میں ایک سادہ، باوقار اور خوددار انسان ہوں۔ مجھے صرف ایک ساتھی کی تلاش ہے جو انسانیت کی بنیاد پر رشتہ بنانا جانتا ہو۔ میں مجبور نہیں، میں باوقار ہوں۔ میں اپنی زندگی اپنے اصولوں پر جینا چاہتی ہوں، اور اسی اصول پر شادی کرنا چاہتی ہوں۔ میری یہی خواہش ہے، یہی میرا حق ہے، اور یہی میری پہچان ہے۔

