فیصل آباد سے اسلام آباد آکر نوعمر ٹک ٹاکر ثنا یوسف کو قتل کرنے والے ملزم کو پولیس نے گرفتار کرلیا ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ واقعہ نہایت دلخراش ہے اور اب اس کیس سے متعلق کئی حیران کن انکشافات سامنے آرہے ہیں۔
صحافی رضوان غلزئی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (ٹوئٹر) پر لکھا کہ پولیس کے مطابق ملزم نے فیصل آباد سے رینٹ پر فارچونر گاڑی حاصل کی اور اسلام آباد آیا۔ اس نے لوگوں کو خود کو ایک بڑے لینڈ لارڈ کا بیٹا ظاہر کیا جبکہ حقیقت میں اس نے گاڑی کا کرایہ بھی ادا نہیں کیا تھا۔ اس بات سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اپنی شناخت کو چھپانے کی کوشش کر رہا تھا۔
ذرائع کے مطابق ملزم نے ثنا یوسف کی سالگرہ کے موقع پر کیک اور تحائف بھی خریدے اور اسلام آباد کے جی 13 علاقے میں پہنچا، لیکن جب ثنا نے اس سے ملاقات کرنے سے انکار کیا تو ملزم کو شدید غصہ آیا۔ اس نے پولیس کو بیان دیتے ہوئے اعتراف کیا کہ اسی انکار کی وجہ سے اس نے غصے میں آکر انتہائی قدم اٹھایا۔
یاد رہے کہ مقتولہ ثنا یوسف کی نمازِ جنازہ ان کے آبائی علاقے چترال میں ادا کی گئی اور تدفین بھی وہیں کی گئی۔ ثنا یوسف کے والدین نے پولیس اور حکومت سے اپیل کی ہے کہ اس واقعے کی مکمل اور شفاف تحقیقات کی جائیں اور ان کی بیٹی کو انصاف فراہم کیا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ امن پسند لوگ ہیں اور ان کا کسی کے ساتھ کوئی ذاتی دشمنی نہیں ہے۔
اس کیس نے نہ صرف سوشل میڈیا پر بلکہ ملک بھر میں سنسنی پھیلادی ہے، اور ہر شخص اس افسوسناک واقعے کی مذمت کررہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ سوال بھی اُٹھایا جارہا ہے کہ ایسے ملزمان کو گاڑی رینٹ پر کیسے مل جاتی ہے اور سکیورٹی کے نظام میں ایسی خامیاں کیوں موجود ہیں جن سے کسی کی جان لینا اتنا آسان ہوجاتا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ کیس کی تحقیقات جاری ہیں اور تمام شواہد اکٹھے کرکے عدالت میں پیش کیے جائیں گے۔ عوام اور سوشل میڈیا صارفین کی نظریں اب اس کیس پر لگی ہوئی ہیں کہ متاثرہ خاندان کو کب اور کیسے انصاف ملے گا۔
