کراچی میں شوبز انڈسٹری سے تعلق رکھنے والی معروف اداکارہ حمیرا اصغر کی اچانک اور پراسرار موت نے ہر کسی کو افسردہ کر دیا ہے۔ تاہم اس واقعے نے اُس وقت ایک نیا موڑ اختیار کیا، جب اسپتال انتظامیہ نے بتایا کہ اداکارہ کے والد نے ان کی لاش وصول کرنے سے انکار کر دیا۔ اس خبر نے نہ صرف شوبز حلقوں بلکہ عام شہریوں کو بھی چونکا دیا ہے۔
واقعہ کیسے پیش آیا؟
ابتدائی اطلاعات کے مطابق حمیرا اصغر کی لاش ان کے فلیٹ سے ملی، جہاں وہ کئی دن سے اکیلی رہائش پذیر تھیں۔ ان کے فلیٹ سے بدبو آنے پر پڑوسیوں نے پولیس کو اطلاع دی۔ جب دروازہ توڑا گیا تو ان کی لاش فرش پر پڑی ملی، جو کئی دن پرانی تھی۔ موت کی ابتدائی وجہ طبعی یا ذہنی دباؤ قرار دی جا رہی ہے، تاہم پوسٹ مارٹم کی رپورٹ کا انتظار ہے۔
والد کا مؤقف کیا ہے؟
اداکارہ کے والد جو لاہور میں مقیم ہیں، نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا:
“یہ وہ بیٹی نہیں جسے ہم نے پالا تھا۔ حمیرا نے گھر سے بغاوت کی، ہماری عزت خاک میں ملا دی۔ وہ اپنی دنیا میں مگن تھی، ہمیں اپنی بیٹی کی لاش نہیں چاہیے۔”
ان کا یہ بیان نہایت سخت اور جذباتی تھا، جس نے کئی لوگوں کو حیرت اور دکھ میں مبتلا کر دیا۔ ان کے مطابق حمیرا نے نہ صرف گھر چھوڑا، بلکہ گھر والوں سے تعلق بھی ختم کر دیا تھا۔
خاندان اور معاشرتی دباؤ
ہمارے معاشرے میں شوبز سے وابستہ خواتین کو اکثر خاندان کی طرف سے مخالفت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اداکارہ حمیرا کا تعلق بھی ایک ایسے ہی روایتی خاندان سے تھا جہاں لڑکیوں کا ٹی وی یا فلم انڈسٹری میں کام کرنا باعثِ شرم سمجھا جاتا ہے۔ ان کے والد کا موقف ایک ایسے باپ کی سوچ کی نمائندگی کرتا ہے جو سماجی دباؤ میں بیٹی کو “نام نہاد عزت” کی قیمت پر ترک کر دیتا ہے۔
سماجی ردعمل
سوشل میڈیا پر اس خبر کے بعد ہمدردی کی لہر دوڑ گئی۔ بہت سے صارفین نے کہا کہ:
“یہ لمحۂ فکریہ ہے کہ اولاد اگر ماں باپ کی مرضی کے خلاف جینے کا فیصلہ کرے تو کیا اس کا اختتام یوں تنہا موت پر ہونا چاہیے؟”
“عزت کا مطلب رشتہ ختم کرنا نہیں ہونا چاہیے۔ اگر بیٹی غلط راستے پر بھی گئی تھی، تو موت کے بعد کم از کم ماں باپ کا فرض تھا کہ کفن دفن کریں۔”
اداکارہ کا کیریئر اور ذاتی زندگی
حمیرا اصغر نے کئی ڈراموں اور اشتہارات میں کام کیا تھا۔ ان کا شمار ابھرتی ہوئی اداکاراؤں میں ہوتا تھا۔ ان کی قریبی دوستوں کا کہنا ہے کہ حمیرا نرم مزاج، تنہا پسند اور حساس طبیعت کی مالک تھیں۔ کئی بار انہوں نے یہ بھی کہا کہ “مجھے اپنے خاندان کی ناراضی سب سے زیادہ تکلیف دیتی ہے۔”
سبق: رشتے روٹھیں، ختم نہیں ہونے چاہییں
یہ واقعہ ہمیں کئی سبق سکھاتا ہے:
-
اگر اولاد گھر چھوڑ بھی دے، تو والدین کو اس کا دروازہ ہمیشہ کھلا رکھنا چاہیے۔
-
سماج کی “کیا کہیں گے” والی سوچ کی بجائے، اپنوں کو اپنانے کی روایت مضبوط ہونی چاہیے۔
-
بیٹی ہو یا بیٹا، جب تک وہ زندہ ہے یا مر جائے، وہ ماں باپ کا ہی ہوتا ہے۔
نتیجہ
اداکارہ حمیرا کی موت صرف ایک فرد کا جانا نہیں، بلکہ ایک کہانی کا خاتمہ ہے جو محبت، بغاوت، معاشرتی تنقید، اور تنہائی کے کئی موڑ سے گزری۔ یہ معاشرے کے لیے آئینہ ہے کہ جذبات سے عاری، صرف عزت کے نام پر رشتے توڑنے سے انسان تنہا ہو جاتا ہے — کبھی زندہ ہوتے ہوئے، کبھی مرنے کے بعد۔
