Information

سعودی عرب میں پاکستانی مزدور 400 میٹر گہرے کنویں میں گر گیا، اور پھر ایسا معجزہ ہوا کہ دنیا حیران رہ گئی!

سعودی عرب میں پاکستانی مزدور 400 میٹر گہرے کنویں میں گر گیا، اور پھر ایسا معجزہ ہوا کہ دنیا حیران رہ گئی!

دنیا کی چکاچوند روشنیوں میں کام کرنے والے وہ پاکستانی مزدور جو اپنے اہلِ خانہ کی روزی روٹی کے لیے وطن سے ہزاروں میل دور سعودی عرب کے صحراؤں میں محنت مزدوری کرتے ہیں، ان کی زندگی اکثر خطرات، غربت اور دعاؤں سے بھری ہوتی ہے۔ ایسا ہی ایک واقعہ حال ہی میں پیش آیا جس نے ہر سننے والے کو ہلا کر رکھ دیا۔

📍 واقعے کی تفصیل:

مدینہ کے قریبی علاقے میں ایک پاکستانی مزدور، جس کا نام عرفان بتایا گیا ہے، ایک زیر تعمیر کنویں پر کام کر رہا تھا۔ اچانک پاؤں پھسلنے سے وہ 400 میٹر گہرے کنویں میں جا گرا۔ کنویں کی گہرائی اتنی تھی کہ ابتدا میں تو سب نے یہی سمجھا کہ اب بچنے کا کوئی امکان نہیں۔

کنویں میں اندھیرا، تنگی اور نیچے پتھروں کا ڈھیر… مگر عرفان کی سانسیں اب بھی چل رہی تھیں۔


🌟 معجزہ کیسے ہوا؟

جیسے ہی عرفان گرا، وہاں موجود ساتھی مزدوروں نے فوری طور پر ریسکیو ٹیم کو اطلاع دی۔ سعودی سول ڈیفنس کی ٹیم فوراً موقع پر پہنچی۔ ایکسپرٹ ریسکیو آپریشن کا آغاز کیا گیا۔

کنویں کی گہرائی اور راستے کی تنگی کے باعث ٹیم کو ایک ایک انچ نیچے اترنے میں گھنٹوں لگے۔ ہر کوئی دل تھامے اس لمحے کا منتظر تھا کہ عرفان زندہ ہے یا نہیں؟

تقریباً 7 گھنٹے بعد جب ریسکیو اہلکار کنویں کی تہہ تک پہنچے، تو حیرت انگیز طور پر عرفان زندہ تھا، ہوش میں تھا، اور اللہ کا شکر ادا کر رہا تھا۔


💬 عرفان نے کیا کہا؟

جب عرفان کو نکالا گیا اور ابتدائی طبی امداد دی گئی، تو اُس نے کہا:

“میں جب گرا تو دل میں صرف ایک دعا تھی کہ اللہ مجھے بچا لے، میری ماں میرا انتظار کر رہی ہوگی۔ اتنی گہرائی میں گرنے کے بعد بھی میرا زندہ بچنا صرف اللہ کا کرم اور میری ماں کی دعا ہے۔”


🕋 اللہ کے معجزے کی ایک مثال

یہ واقعہ صرف ایک حادثہ نہیں، یہ ایک زندہ معجزہ ہے۔ 400 میٹر گہرے کنویں میں گر کر زندہ بچ جانا انسانی طاقت سے باہر بات ہے۔ اس میں اللہ تعالیٰ کی قدرت کا بڑا مظاہرہ ہے۔

قرآن میں ارشاد ہے:

“وہی ہے جو تمہیں خشکی اور تری میں چلاتا ہے، یہاں تک کہ جب تم کشتیوں میں ہوتے ہو… پھر اچانک آندھی آتی ہے اور وہ موجیں تمہیں ہر طرف سے گھیر لیتی ہیں، تب تم اخلاص کے ساتھ صرف اُسی کو پکارتے ہو۔”
(سورۃ یونس: 22)

عرفان بھی اسی طرح اللہ کو پکار رہا تھا… اور اللہ نے اس کی پکار سن لی۔


💡 سبق:

یہ واقعہ ہمیں کئی باتیں سکھاتا ہے:

  1. ماں کی دعا میں طاقت ہے: عرفان کی زندگی اس دعا کی بدولت بچی جسے شاید اُس کی ماں نے روز سجدے میں مانگا تھا۔

  2. زندگی کا کوئی بھروسہ نہیں: ہم زندگی کو معمولی سمجھ کر گزار رہے ہوتے ہیں، لیکن ایک لمحہ سب کچھ بدل سکتا ہے۔

  3. اللہ ہر جگہ موجود ہے: چاہے 400 میٹر گہرا کنواں ہو یا زندگی کے کسی دکھ کا اندھیرا، اللہ اپنے بندے کو تنہا نہیں چھوڑتا۔

  4. محنت کشوں کا احترام کریں: یہ وہ لوگ ہیں جو ہمارے ملک کی معیشت چلا رہے ہیں، ان کے جذبے اور قربانیوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھنا چاہیے۔


📢 نتیجہ:

عرفان کا واقعہ کوئی کہانی نہیں، بلکہ ایک زندہ حقیقت ہے جو ہمیں جھنجھوڑتی ہے۔ زندگی میں کبھی بھی غرور، ناامیدی یا بےحسی نہ اپنائیں۔ کیونکہ اللہ وہ ہے جو کنویں کی تہہ میں بھی زندگی کا دیا جلا سکتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *