Information

جب باپ ہی بیچنے لگے… ماریہ کی کہانی اور ہماری ذمے داری

جب باپ ہی بیچنے لگے… ماریہ کی کہانی اور ہماری ذمے داری

ماریہ صرف پندرہ سال کی تھی، ایک معصوم سی بچی، جس کی عمر کھیلنے، سیکھنے اور خواب دیکھنے کی ہوتی ہے۔ مگر اس کے نصیب میں وہ تلخ دن لکھے گئے تھے جب اُس کا باپ، جو محافظ ہونا چاہیے تھا، اس کا سودا کرنے لگا… صرف چند سکوں کے لیے۔

یہ کہانی صرف ماریہ کی نہیں، بہت سی ماریاؤں کی ہے جو پاکستان، بھارت، افغانستان اور دیگر ترقی پذیر ممالک کے پسماندہ علاقوں میں رہتی ہیں۔ غربت، جہالت، نشہ، یا لالچ بعض مردوں کو اس نہج پر لے آتا ہے کہ وہ اپنی بیٹیوں کی معصومیت کا سودا کرنے میں بھی نہیں شرماتے۔


📌 اصل مسئلہ کیا ہے؟

  1. غربت اور معاشی دباؤ: جب خاندان میں کھانے کو کچھ نہ ہو تو بعض اوقات ضمیر بھی مر جاتا ہے۔ ایسے حالات میں بعض مرد ظالم بن جاتے ہیں۔

  2. تعلیم کی کمی: تعلیم نہ ہونے کی وجہ سے معاشرتی اور دینی شعور کمزور ہوتا ہے، جس کے نتیجے میں لوگ حلال و حرام، عزت و ذلت کا فرق بھول جاتے ہیں۔

  3. خاندانی بےحسی: کچھ ماں باپ اپنی بیٹیوں کو بوجھ سمجھتے ہیں۔ یہ سوچ خود ایک بیماری ہے جس کا علاج صرف تعلیم، محبت اور آگاہی سے ممکن ہے۔


🔥 یہ وقت ہے جاگنے کا!

اگر کوئی باپ ایسا کر رہا ہے تو معاشرہ کہاں کھڑا ہے؟ کیا ہم میں سے کسی نے اسے روکا؟ کیا ہم نے کبھی ایسے خاندانوں کی مدد کی جو غربت کا شکار ہیں؟

سوال صرف حکومت سے نہیں، ہم سب سے ہے۔ ہم کیوں خاموش تماشائی بنے رہتے ہیں؟


📖 اسلام کیا کہتا ہے؟

اسلام نے بیٹی کو رحمت قرار دیا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

“جس نے تین بیٹیوں کی پرورش کی، اُنہیں تعلیم دی، ان کی اچھی تربیت کی اور ان کی شادیاں کر دیں، وہ جنت کا مستحق ہے۔”
(ترمذی)

باپ کا اصل کردار محافظ، رہنما، اور محبت کا پیکر ہوتا ہے۔ جو اپنی بیٹی کی عزت بیچ دے، وہ نہ صرف دین سے دور ہے بلکہ انسانیت سے بھی گرا ہوا ہے۔


🛑 ہمیں کیا کرنا چاہیے؟

  1. ایسے واقعات پر خاموش نہ رہیں: اگر آپ کو علم ہو کہ کسی کے ساتھ ایسا ہو رہا ہے، تو قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اطلاع دیں۔

  2. رفاہی اداروں سے رابطہ کریں: پاکستان میں کئی NGOs (جیسا کہ Edhi Foundation، Saylani، اور Kashf Foundation) ایسے بچوں اور عورتوں کی مدد کرتی ہیں۔

  3. تعلیم کو عام کریں: ایک پڑھی لکھی بیٹی نہ صرف خود کو بچاتی ہے بلکہ اپنے خاندان کو بھی روشنی کی طرف لے جاتی ہے۔

  4. بچیوں کو بااختیار بنائیں: انہیں خود اعتمادی، دینی شعور اور دنیاوی تعلیم دیں تاکہ وہ برے حالات میں آواز اٹھا سکیں۔


💔 نتیجہ:

ماریہ جیسے بچوں کو ضرورت ہے آپ کی آواز، آپ کے قلم، اور آپ کے عمل کی۔ یہ ہماری اجتماعی ذمے داری ہے کہ ہم اس نظام کو بدلیں جو بچوں سے ان کا بچپن چھین لیتا ہے۔

ہر بار جب آپ کسی بچے کو اسکول کی بجائے سڑک پر مزدوری کرتے دیکھیں… یا کسی لڑکی کو آنکھوں میں خوف لیے چپ چاپ کھڑا دیکھیں… تو خاموش نہ رہیں۔

کیونکہ خاموشی اکثر ظالم کا ساتھ دیتی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *