Information

بیوگی کا دکھ اور دیورانی کا سلوک: ایک صبر آزما کہانی

بیوگی کا دکھ اور دیورانی کا سلوک: ایک صبر آزما کہانی

شوہر کی وفات کے بعد میری دنیا اندھیر ہو چکی تھی۔ نہ کوئی سہارا، نہ کوئی اپنا۔ تین بچوں کی ماں، آنکھوں میں آنسو، دل میں درد۔ مگر جو صدمہ میرے شوہر کے جانے سے بھی زیادہ تکلیف دہ تھا، وہ میرے اپنوں کا رویہ تھا۔


💔 دیورانی کی زبردستی

میرے بیوہ ہوتے ہی میری دیورانی نے، جو پہلے بہت نرم مزاج نظر آتی تھی، اچانک مجھ پر حکم چلانا شروع کر دیا۔ میرے سسرال میں میری حیثیت ایک مہمان سے کم ہو گئی۔ وہ بار بار کہتی، “اب تو تم بغیر شوہر کے ہو، اس گھر میں رہنا ہے تو میرے اصولوں پر چلو۔”

رفتہ رفتہ اس نے اپنے شوہر، یعنی میرے دیور پر دباؤ ڈالنا شروع کیا کہ وہ مجھ سے نکاح کر لے تاکہ میں سسرال سے نہ جاؤں، اور میرے بچے بھی یہیں رہیں۔ مجھے یہ سب کچھ بے حد غیر فطری اور اذیت ناک لگ رہا تھا، مگر میرے پاس اور کوئی راستہ نہیں بچا۔


📚 اسلامی نکتۂ نظر

اسلام نے بیوہ عورت کو مکمل تحفظ دیا ہے:

  • عدت کے دوران اُسے سکون اور وقار کے ساتھ وقت گزارنے کا حکم ہے۔

  • کسی قسم کی زبردستی یا نکاح پر دباؤ اسلام میں ناجائز ہے۔

  • عورت کی رضامندی نکاح میں بنیادی شرط ہے، بغیر رضا کے نکاح باطل ہے۔


🤲 صبر، عقل اور دعا

میں نے اللہ سے ہدایت مانگی۔ میرے والدین نے میرا ساتھ دیا اور کہا کہ یہ میرا حق ہے کہ میں اپنی مرضی سے زندگی کا فیصلہ کروں۔ میں نے ہمت سے انکار کیا اور اپنے بچوں کے ساتھ والدین کے گھر چلی آئی۔ کچھ وقت مشکل گزرا، مگر اللہ نے میری محنت، صبر اور دعا کا پھل دیا۔ مجھے ایک نئی زندگی ملی، سکون کے ساتھ، عزت کے ساتھ۔


✅ سبق

  • عورت کی کمزوری کا فائدہ نہ اٹھائیں، اس کا سہارا بنیں۔

  • بیوہ ہونا جرم نہیں، بلکہ آزمائش ہے۔ رحم، مدد اور ہمدردی کی ضرورت ہوتی ہے، حکم چلانے یا زبردستی کی نہیں۔

  • ہر عورت کو اپنے فیصلے کا حق ہے۔ دین اسلام اسے مکمل اختیار دیتا ہے۔


🌹 پیغام

اگر آپ کے اردگرد کوئی بیوہ عورت ہو، تو اس کے لیے آسانی پیدا کریں، اُسے عزت دیں، مشورہ دیں، اور اُس کی مرضی کا احترام کریں۔ معاشرہ اُسی وقت بہتر ہو سکتا ہے جب ہم کمزوروں کو سہارا دینے والے بنیں، اُن پر بوجھ نہ بنیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *