Information

جب اُس نے میری بہن کو گندی نظر سے دیکھا تو میں نے اس کا ہاتھ قرآن پر رکھوا دیا…

انسانی فطرت ہے کہ وہ اپنی عزت، اپنی ماں، بہن اور بیٹی کی عزت پر کسی کی میلی نظر برداشت نہیں کرتا۔ مگر سوچنے کی بات یہ ہے کہ جب ہم دوسروں کی عزتوں پر بری نظر ڈالتے ہیں تو کیا ہم بھول جاتے ہیں کہ وہ بھی کسی کی ماں، کسی کی بہن یا کسی کی بیٹی ہے؟

یہ واقعہ ایک ایسے نوجوان کا ہے جو روزانہ ہماری گلی سے گزرتے ہوئے میری چھوٹی بہن کو گھور کر دیکھتا تھا۔ میں برداشت کرتا رہا، سمجھاتا رہا۔ ایک دن ہمت کرکے میں نے اسے پکڑا اور محلے کی مسجد کے امام صاحب کے پاس لے گیا۔ وہاں میں نے صرف ایک سوال کیا:
“اگر تمہیں کوئی یوں گھورے، تم کیا کرو گے؟”

وہ خاموش ہو گیا۔ میں نے کہا: “یہی اللہ کی طرف سے سوال تم سے قیامت کے دن کیا جائے گا۔”
پھر میں نے کہا: “اگر تمہیں یقین ہے کہ تم نے کچھ غلط نہیں کیا، تو یہ قرآن پاک ہے، اس پر ہاتھ رکھ کر قسم کھاؤ کہ تمہاری نظر پاک تھی۔”
لڑکے کے ہاتھ کانپنے لگے… اور اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ وہ وہیں مسجد میں بیٹھ کر توبہ کرنے لگا۔

سبق:

ہم دوسروں کے گھروں کی عزتوں کو حقیر نہ سمجھیں۔ جس طرح ہمیں اپنی ماں، بہن، بیٹی کی حفاظت عزیز ہے، ویسے ہی دوسروں کے لیے بھی ہو۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا: “تم میں سے بہترین وہ ہے جس کا اخلاق بہترین ہے۔”

پیغام:

اپنے دل اور نظر کو پاک کریں۔ اگر کوئی غلطی ہو چکی ہے تو توبہ کریں، رب کریم معاف فرمانے والا ہے۔ معاشرہ اسی وقت بہتر ہو سکتا ہے جب ہم دوسروں کی عزت کو بھی اپنی عزت کی طرح محفوظ سمجھیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *