اداکارہ حمیرا اصغر کی اچانک موت نے ہر حساس دل کو ہلا کر رکھ دیا۔ افسوس اس بات کا نہیں کہ ایک زندگی رخصت ہو گئی، افسوس اس بات کا ہے کہ جیسے ہی ان کی خبر منظرِ عام پر آئی، سوشل میڈیا پر ان کی نجی ویڈیوز اور تصاویر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئیں۔ کیا ہم نے کبھی سوچا کہ ہم کس راستے پر جا رہے ہیں؟ کیا انسان کی حرمت اور پردے کا کوئی مقام نہیں رہا؟
یہ صرف حمیرا اصغر کی بات نہیں، یہ ہر اُس انسان کی بات ہے جو زندگی کی الجھنوں سے لڑتے لڑتے دنیا سے چلا جاتا ہے، مگر مرنے کے بعد بھی اسے سکھ کا سانس نہیں لینے دیا جاتا۔ انسان کی سب سے بڑی پہچان اس کا وقار اور عزت ہے، چاہے وہ مرد ہو یا عورت۔ اور موت کے بعد تو اسلامی تعلیمات کے مطابق بھی اُس کا حقِ پردہ اور احترام اور بڑھ جاتا ہے۔
سوشل میڈیا پر کچھ مناظر ایسے بھی دیکھنے کو ملے جن میں حمیرا اصغر کی آخری حالت کی وڈیوز کو مزاح، سنسنی یا دلچسپی کے ساتھ شیئر کیا جا رہا ہے۔ کیا ہمیں علم نہیں کہ جس کے جسم کی وڈیو وائرل کی جا رہی ہے، وہ کسی کی بیٹی، بہن یا ماں ہو سکتی ہے؟ اگر کل یہ معاملہ ہمارے گھر میں ہو جائے، تو کیا ہم برداشت کر لیں گے؟
ہماری اصلاح کی سب سے بڑی ضرورت یہاں ہے:
-
مرنے والوں کی عزت کریں۔
چاہے وہ کیسی بھی زندگی گزار گئے ہوں، ہمیں مرنے والوں کی پردہ پوشی کرنی چاہیے۔ -
سوشل میڈیا کا شعور پیدا کریں۔
جس وڈیو کو آپ شیئر کر رہے ہیں، وہ شاید کسی کے دکھ کو بڑھا رہی ہو۔ ایسی ویڈیوز، خبریں یا تفصیلات پھیلانا نہ صرف غیر اخلاقی ہے بلکہ قانونی طور پر بھی جرم ہے۔ -
میڈیا اداروں کی ذمہ داری۔
میڈیا کو چاہیے کہ ریٹنگ کے پیچھے دوڑنے کے بجائے انسانی وقار کو ترجیح دیں۔ ہر خبر کو “بریکنگ نیوز” بنانا ضروری نہیں۔ -
ہمارے بچوں کی تربیت۔
نئی نسل کو تعلیم دیں کہ کسی کی کمزوری پر ہنسنا نہیں بلکہ سیکھنا اور رحم کرنا انسانیت ہے۔
حمیرا اصغر کی موت ایک حادثہ ہو یا کوئی مجرمانہ سازش، یہ فیصلہ عدالتیں کریں گی، مگر ہمارے لیے یہ ایک موقع ہے کہ ہم اپنے رویے اور سوچ کا محاسبہ کریں۔ کسی کی موت کو تماشہ نہ بنائیں، بلکہ اسے سبق بنا کر اپنے کردار اور معاشرے کو بہتر کریں۔
اللہ تعالیٰ حمیرا اصغر کو مغفرت عطا فرمائے اور ہم سب کو ہدایت دے کہ ہم کسی کی عزت کو کبھی پامال نہ کریں۔
یاد رکھیں: کسی کی موت صرف اس کے گھر والوں کا صدمہ نہیں، یہ ہمارے معاشرے کی آئینہ دار ہوتی ہے۔ آئینہ صاف رکھیے۔
