اداکارہ حمیرا اصغر کی موت نے ہر باشعور انسان کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ ایک ایسی خاتون جو کئی سالوں سے تنہا زندگی گزار رہی تھیں، ان کی اچانک اور پراسرار موت نے بہت سے سوالات جنم دیے۔ مگر سوال یہ بھی ہے کہ ہم بطور معاشرہ کہاں کھڑے ہیں؟
تنہائی اور بےرخی کا شکار عورت
حمیرا کی زندگی ہمیں یہ پیغام دیتی ہے کہ شوبز کی چکاچوند زندگی کے پیچھے اکثر تنہائی، خاموشی، اور محرومی چھپی ہوتی ہے۔ ایسے افراد جو سب کو ہنسانے کا ذریعہ بنتے ہیں، وہ خود اندر سے ٹوٹے ہوتے ہیں۔
خاندان سے دوری، سماجی زوال
پولیس کے مطابق ان کے گھر والوں نے ان کی موت کے بعد لاش وصول کرنے سے بھی انکار کیا۔ یہ محض ایک واقعہ نہیں، بلکہ ایک بڑی اخلاقی گراوٹ کی علامت ہے۔ اگر بیٹی کسی وجہ سے گھر سے دور چلی گئی، یا اس نے مختلف راستہ چُنا، تو کیا ہم اسے ہمیشہ کے لیے ٹھکرا دیں گے؟
میڈیا کا کردار
میڈیا کا ایک حصہ اس واقعے کو غیر ذمہ دارانہ طریقے سے رپورٹ کر رہا ہے، سنسنی خیز سرخیوں کے ساتھ۔ یہ افسوسناک ہے کہ ایک فوت شدہ خاتون کی عزت نفس کا خیال نہ رکھا جائے۔ اسلام اور انسانیت دونوں ہمیں سکھاتے ہیں کہ مرنے والوں کی پردہ پوشی کی جائے، ان کا احترام کیا جائے۔
بطور معاشرہ ہمارا فریضہ
یہ وقت ہے کہ ہم خود سے سوال کریں:
-
کیا ہم اپنے خاندان کے افراد کو وقت دیتے ہیں؟
-
کیا ہم اپنے اردگرد تنہا یا پریشان لوگوں کا حال پوچھتے ہیں؟
-
کیا ہم صرف بُرے وقت میں دوسروں پر تبصرہ کرتے ہیں یا ان کا ساتھ بھی دیتے ہیں؟
🔹 نتیجہ: ایک سبق
حمیرا اصغر کا واقعہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ:
-
ہمیں رشتوں کی قدر کرنی چاہیے
-
تنہائی کا شکار افراد کی مدد کرنی چاہیے
-
میڈیا اور سوشل میڈیا پر ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے
-
اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ہم مرنے والوں کی عزت و حرمت کو پامال نہ کریں
“المؤمن مرآة المؤمن”
(مومن مومن کا آئینہ ہوتا ہے)
ہمیں دوسروں کے حالات سے سبق سیکھنا چاہیے، نہ کہ انہیں تماشہ بنانا چاہیے۔
