مرد یہ غلطی نہ کریں – ازدواجی تعلقات کا اصل حسن سمجھیں
ازدواجی زندگی میں جسمانی تعلق (ہمبستری) صرف خواہش کی تکمیل نہیں بلکہ محبت، احترام اور قربت کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ جہاں مرد اس تعلق کو ایک وقتی ضرورت سمجھ کر آگے بڑھ جاتا ہے، وہیں عورت اس لمحے کو جذباتی گہرائی، پیار اور توجہ کے ساتھ جیتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ بعض اوقات عورت کو ہمبستری کے بعد ایسا لگتا ہے جیسے اس کا دل ٹوٹ گیا ہو۔ اس کی ایک بڑی وجہ مرد کی چند عام مگر تکلیف دہ غلطیاں ہیں، جنہیں اگر سمجھ لیا جائے تو ازدواجی زندگی نہ صرف خوشحال بلکہ محبت بھری بھی ہو سکتی ہے۔
1. صرف جسمانی تعلق پر زور، جذباتی تعلق کو نظر انداز کرنا
عورت کے لیے مباشرت صرف جسمانی تسکین نہیں، بلکہ ایک جذباتی بندھن بھی ہے۔ اگر مرد صرف اپنی خواہش پوری کرکے کنارہ کش ہو جائے اور بیوی کی دلجوئی نہ کرے، تو عورت کو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے اسے استعمال کر کے چھوڑ دیا گیا۔
اصلاحی مشورہ:
تعلق کے بعد چند منٹ محبت، بات چیت اور نرمی سے پیش آئیں۔ یہ عمل بیوی کے دل کو سکون دیتا ہے۔
2. توجہ کا فقدان
اکثر شوہر مباشرت کے فوراً بعد یا تو سو جاتے ہیں یا موبائل میں لگ جاتے ہیں۔ عورت کو یہ عمل بے قدری محسوس ہوتا ہے۔ وہ یہ سمجھتی ہے کہ اس کی اہمیت صرف تعلق تک محدود تھی۔
اصلاحی مشورہ:
مباشرت کے بعد چند لمحے بیوی کے ساتھ گزاریں، اس کا ہاتھ تھامیں، اس سے بات کریں۔ یہ چھوٹے عمل بڑے اثر چھوڑتے ہیں۔
3. شکریہ اور تعریف نہ کرنا
بیوی نے خود کو شوہر کے لیے مکمل طور پر پیش کیا، اعتماد کیا، وقت دیا۔ لیکن اگر شوہر اس پر ایک شکر گزار لفظ نہ کہے تو بیوی کو یہ لگتا ہے جیسے اس کی قربانی کی کوئی قیمت ہی نہیں۔
اصلاحی مشورہ:
بس اتنا کہنا: “اللہ تمہیں سلامت رکھے، تم نے میرا دل خوش کر دیا” — یہ جملہ بیوی کے دل میں نقش ہو جاتا ہے۔
4. احساسِ گناہ یا شرمندگی
اگر مرد صرف اپنی تسکین کے لیے تعلق قائم کرے اور عورت کو بے توجہی دے، تو بیوی کو یہ احساس ہوتا ہے کہ وہ محض ایک جسم تھی، جذبات سے خالی۔ یہ شرمندگی اور خود پر افسوس کے جذبات عورت کے دل کو توڑ دیتے ہیں۔
اصلاحی مشورہ:
اپنی بیوی کو یقین دلائیں کہ وہ آپ کے لیے صرف ایک جسم نہیں، بلکہ آپ کی زندگی کی ساتھی ہے۔ اس سے محبت کریں، عزت دیں۔
5. اسلامی پہلو کا نظر انداز کرنا
ہمبستری کے بعد دعا پڑھنا، شکر ادا کرنا اور صفائی کا خیال رکھنا — یہ سب اسلامی تعلیمات کا حصہ ہیں۔ ان پر عمل نہ کرنا بھی بے برکتی اور دلی فاصلے کا سبب بن سکتا ہے۔
اصلاحی مشورہ:
دونوں میاں بیوی کو چاہیے کہ تعلق کے بعد اللہ سے دعا کریں:
“اللّٰھم جنبنا الشیطان وجنب الشیطان ما رزقتنا”
نتیجہ:
بیوی کے دل کو جیتنا مشکل نہیں۔ صرف چند اخلاقی، جذباتی اور دینی اصولوں کا خیال رکھنے سے محبت، اعتماد اور قربت میں اضافہ ممکن ہے۔
“محبت جسمانی تعلق سے نہیں، اس تعلق کے بعد آپ کے رویے سے پروان چڑھتی ہے۔”
