Information

میری شادی کو چار سال ہو گئے تھے، اور ایک مہینہ بعد ہی میری آنکھیں کھل گئیں

میری شادی کو چار سال ہو گئے تھے، اور ایک مہینہ بعد ہی میری آنکھیں کھل گئیں

میری شادی کو صرف ایک مہینہ گزرا تھا جب مجھے اندازہ ہوا کہ شادی صرف محبت کا نام نہیں، بلکہ قربانی، صبر، برداشت اور ذمہ داری کا نام ہے۔ ہم اکثر شادی کو صرف خوشی، تحفے، رشتے اور تقریبات کے پس منظر سے دیکھتے ہیں، لیکن اصل امتحان تو اُس وقت شروع ہوتا ہے جب دو مختلف سوچوں اور عادتوں کے انسان ایک چھت کے نیچے زندگی بسر کرنے لگتے ہیں۔

شروع میں چھوٹی چھوٹی باتوں پر اختلاف ہوتے، کبھی میں ضد کرتی تو کبھی وہ خاموش ہو جاتا۔ مجھے لگا شاید محبت کم ہو گئی ہے، یا رشتہ ٹھیک نہیں چل رہا، لیکن پھر ایک دن میری ساس نے کہا:
“بیٹی! رشتے وقت لیتے ہیں، اور محبت صرف لفظوں سے نہیں بلکہ عمل سے ظاہر ہوتی ہے۔”

اس دن مجھے پہلی بار احساس ہوا کہ رشتے نبھانے کے لیے صرف دل نہیں بلکہ سمجھداری بھی چاہیے۔ میں نے اپنے رویے پر غور کیا، اور شوہر نے بھی۔ ہم نے بات چیت بڑھائی، ایک دوسرے کی بات سنی، اور سب سے بڑھ کر برداشت اور احترام کو ترجیح دی۔

چار سال گزر چکے ہیں۔ ان چار سالوں میں خوشی بھی آئی، دکھ بھی، الجھنیں بھی ہوئیں اور بہت کچھ سیکھنے کو بھی ملا۔ لیکن سب سے بڑی سچائی یہ ہے کہ:

شادی وہ بندھن ہے جو دو دلوں کو نہیں، بلکہ دو خاندانوں کو جوڑتا ہے، اور اسے مضبوط بنانے کے لیے دونوں طرف سے قربانیاں دینی پڑتی ہیں۔

میری گزارش ہے نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں سے کہ شادی صرف خواب نہیں، حقیقت ہوتی ہے۔ محبت کا مطلب صرف اچھے وقت میں ساتھ دینا نہیں بلکہ مشکل وقت میں ایک دوسرے کا سہارا بننا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *