Information

گھر کی عورتوں کی عزت، معاشرے کی بنیاد ہے

گھر کی عورتوں کی عزت، معاشرے کی بنیاد ہے

آج کے دور میں جب ترقی، تعلیم اور آزادی کے نام پر اقدار کو پامال کیا جا رہا ہے، ہمیں ایک لمحے کے لیے رک کر سوچنے کی ضرورت ہے کہ ہم کہاں جا رہے ہیں؟ عورت جسے رب نے ماں، بہن، بیوی اور بیٹی کے روپ میں عزت اور رحمت بنایا، اُسے آج معاشرے میں شک، بدگمانی، بداعتمادی اور ظلم کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

ہر روز ہمیں ایسے واقعات دیکھنے اور سننے کو ملتے ہیں جہاں شوہر بیوی پر شک کرتا ہے، بھائی بہن پر پابندیاں لگاتا ہے، یا سسرال میں بہو کو ذلیل کیا جاتا ہے۔ لیکن ہم یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ ایک عورت اگر معاشرتی دباؤ، گھریلو تشدد یا ذہنی اذیت کا شکار ہو جائے تو پوری نسل متاثر ہوتی ہے۔

عورت کے ساتھ حسنِ سلوک نبی ﷺ کی سنت ہے

نبی کریم ﷺ نے ہمیشہ عورتوں سے نرمی، محبت اور عزت سے پیش آنے کی تلقین کی۔ آپ ﷺ نے فرمایا:
“تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو اپنے اہل خانہ کے ساتھ اچھا سلوک کرے، اور میں تم سب میں اپنے گھر والوں کے لیے سب سے بہتر ہوں۔”
(ترمذی)

کیا ہم واقعی اپنے گھروں میں اس سنت پر عمل کر رہے ہیں؟ یا صرف زبان سے خود کو مسلمان کہنے پر اکتفا کیا ہے؟

بدگمانی، گھر کو توڑتی ہے

ایک چھوٹا سا شک، ایک معمولی سی بدگمانی ایک مضبوط رشتہ توڑ دیتی ہے۔ اکثر مرد حضرات بغیر تحقیق کے اپنی بیویوں پر الزامات لگا دیتے ہیں، یا انہیں ایسی باتوں پر طنز کا نشانہ بناتے ہیں جن کی کوئی حقیقت نہیں ہوتی۔ نتیجتاً ایک عورت ذہنی مریض بن جاتی ہے، بچے پریشان ہوتے ہیں، اور گھر کا ماحول جہنم بن جاتا ہے۔

قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
“اے ایمان والو! بہت زیادہ گمان سے بچو، بے شک بعض گمان گناہ ہوتے ہیں۔”
(سورۃ الحجرات: 12)

اصلاح کا آغاز اپنے گھر سے کریں

ہم دوسروں کی برائیاں بیان کرنے میں وقت ضائع کرتے ہیں، لیکن کبھی اپنے گھر، اپنی بیوی، اپنی بہن یا بیٹی سے محبت سے بات کرنے کی کوشش نہیں کرتے۔ اگر ہر مرد فیصلہ کر لے کہ وہ اپنے گھر کی عورتوں کو عزت دے گا، ان پر اعتماد کرے گا، اور ان کے ساتھ نرمی سے پیش آئے گا، تو یقین مانیں معاشرے کے آدھے مسائل خود بخود ختم ہو جائیں گے۔

آخری پیغام

عزت صرف زبان سے نہیں، عمل سے ملتی ہے۔ عورت کوئی چیز نہیں، ایک مکمل انسان ہے۔ اُسے صرف اُس وقت یاد نہ کریں جب کھانے کی ضرورت ہو، بلکہ جب وہ روئے، تھکے، یا بولے، تب بھی اُسے توجہ، محبت اور تسلی دیں۔ کیونکہ ایک مطمئن عورت ایک بہترین ماں، بیوی اور بیٹی بن کر نسلوں کی تربیت کرتی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *