زندگی کبھی کبھی ہمیں ایسے موڑ پر لے آتی ہے جہاں فیصلے آسان نہیں ہوتے۔ میرے شوہر کی وفات کے بعد میرے اوپر مالی بوجھ بہت بڑھ گیا تھا۔ گھر کی چھت میرے نام تھی، اور میں نے سوچا کہ اگر اوپر والا پورشن کرائے پر دے دوں تو کچھ آسانی ہو سکتی ہے۔
چند دنوں بعد ایک شریف سا جوڑا کرایہ دار بن کر آیا۔ شوہر دفتر جاتا تھا اور بیوی گھر پر رہتی تھی۔ ابتدا میں سب کچھ معمول کے مطابق تھا۔ لیکن ایک دن ایسا ہوا جو میری زندگی کا رخ بدل گیا۔
اچانک دروازے پر دستک ہوئی
میں دوپہر کو آرام کر رہی تھی کہ دروازے پر ہلکی سی دستک ہوئی۔ دروازہ کھولا تو کرایہ دار کی بیوی کھڑی تھی۔ اس کے ہاتھ میں گرم چائے اور پلیٹ میں نمکین تھے۔ وہ مسکرا رہی تھی۔
“آنٹی، آپ تو سارا دن تنہا ہوتی ہیں۔ میں نے سوچا آج آپ کے ساتھ بیٹھ کر تھوڑی بات چیت کی جائے۔”
ایک نئی دوستی کا آغاز
اس دن سے وہ روز آتی، کبھی کھانا لاتی، کبھی صفائی میں مدد دیتی۔ مجھے اندازہ ہی نہ ہوا کہ کرایہ دار کی بیوی میرے لیے بیٹی جیسی بن چکی ہے۔ میرے گھر میں برسوں بعد ہنسی کی آوازیں گونجنے لگیں۔ اُس نے میرے سناٹے بھرے دنوں کو خوشیوں سے بھر دیا۔
جب میں بیمار ہوئی
کچھ مہینے بعد میری طبیعت خراب ہوئی۔ ہسپتال جانا پڑا۔ میرے اپنے رشتے داروں نے فون تک نہ کیا، لیکن وہ لڑکی — میری کرایہ دار — میرے ساتھ اسپتال گئی، دوائیں لائیں، رات میرے پاس بیٹھی رہی۔
اصل سبق
میں نے جب پورشن کرایے پر دیا تو سوچا تھا کہ شاید پیسوں سے آسانی ہو گی، لیکن قسمت نے مجھے ایک ایسی بیٹی دی جس نے تنہائی، کمزوری اور غم میں میرا ہاتھ تھام لیا۔ اب وہ صرف کرایہ دار نہیں، میرے دل کا سکون ہے۔
نتیجہ:
زندگی کے فیصلے کبھی کبھار آپ کو انعام کی صورت میں محبتیں دے جاتے ہیں۔ اگر نیت صاف ہو، تو قسمت بھی مہربان ہو جاتی ہے۔
