حالیہ دنوں میں مشرقِ وسطیٰ کا منظرنامہ اس قدر گرم ہو چکا ہے کہ پوری دنیا کی نظریں اس خطے پر جم گئی ہیں۔ ایران پر امریکی B2 بمبار حملے کی خبر جیسے ہی منظرعام پر آئی، عالمی سطح پر ہلچل مچ گئی۔ لیکن معاملہ یہاں تک محدود نہیں رہا۔ شمالی کوریا نے بھی میدان میں کود کر اس کشمکش کو مزید خطرناک موڑ دے دیا ہے۔
شمالی کوریا کا حیران کن اعلان
شمالی کوریا نے اپنے حالیہ بیان میں دوٹوک انداز میں کہا ہے:
“امریکہ کی جارحیت کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔ ہم اپنے اتحادیوں کا ساتھ دیں گے۔”
یہ بیان اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ شمالی کوریا، ایران کا بھرپور ساتھ دینے کا ارادہ رکھتا ہے۔
خطے میں جنگ کا خطرہ مزید بڑھ گیا
امریکی B2 بمبار حملے اور شمالی کوریا کی مداخلت نے مشرقِ وسطیٰ کو ممکنہ عالمی جنگ کا مرکز بنا دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس صورتحال میں روس اور چین کا کردار بھی فیصلہ کن ہو سکتا ہے۔
امریکہ اور اس کے اتحادی تشویش کا شکار
شمالی کوریا کی دھمکی نے واشنگٹن اور اس کے اتحادیوں کو شدید تشویش میں ڈال دیا ہے۔ خطے میں فوجی نقل و حرکت تیزی پکڑ چکی ہے اور اقوامِ متحدہ کی طرف سے فوری طور پر کشیدگی کم کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔
آنے والا وقت کیسے منظر پیش کرے گا؟
کیا یہ محاذ آرائی کسی بڑی جنگ کا پیش خیمہ ثابت ہو گی یا عالمی طاقتیں مل بیٹھ کر اس مسئلے کا حل نکال لیں گی؟
دنیا بھر کی نظریں اس وقت ایران، شمالی کوریا اور امریکہ کی جانب لگی ہیں۔
