اسلام آباد میں واقع سعودی ایمبیسی کا دفتر لوگوں سے بھرا ہوا تھا۔ ویزا لگوانے والوں کی لمبی قطار تھی۔ اس رش میں ایک پاکستانی استاد بھی کھڑا تھا۔ چہرے پر تھکاوٹ، دل میں امید اور آنکھوں میں خواب سجا کر وہ اپنی باری کا انتظار کر رہا تھا۔
کاؤنٹر پر عربی افسر کا عجیب انداز
جب استاد کی باری آئی تو سعودی افسر نے اس کی طرف غور سے دیکھا۔ استاد نے عاجزی سے اپنے کاغذات پیش کیے۔ عربی افسر کچھ دیر خاموش رہا، پھر اچانک اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا:
“تم استاد ہو نا؟”
استاد چونک گیا۔ “جی، میں استاد ہوں۔”
افسر کی آنکھوں میں چمک
عربی افسر نے مسکراتے ہوئے کہا:
“تمہارا مقام بہت بلند ہے۔ ہم استادوں کا احترام کرتے ہیں کیونکہ استاد قوموں کو بناتے ہیں۔”
یہ سنتے ہی استاد کی آنکھوں میں نمی آ گئی۔ اتنے برسوں کی محنت، جدوجہد اور بے پناہ محنت کا اعتراف جب غیرملکی افسر کی زبان سے سنا تو دل بھر آیا۔
افسر کا مزید کہنا
افسر بولا:
“تمہارا ویزا میری طرف سے خصوصی عزت کا مستحق ہے۔ دعا ہے اللہ تمہارا سفر کامیاب کرے اور تم جہاں جاؤ، لوگوں کو علم کی روشنی سے منور کرتے رہو۔”
ایک لمحے کا اثر عمر بھر کا سبق
استاد کی آنکھوں سے بے اختیار آنسو بہہ نکلے۔ اس لمحے نے اس استاد کو احساس دلایا کہ عزت عہدے یا پیسے سے نہیں، بلکہ علم اور اس کی خدمت سے ملتی ہے۔
حاصلِ کلام:
علم کا احترام کرنے والا ہر شخص دلوں میں بستا ہے۔ اس استاد کی طرح ہم سب کو یہ سبق یاد رکھنا چاہیے کہ عزت کا راستہ علم اور محنت سے ہو کر گزرتا ہے۔
