حیات آباد پشاور کی گلیاں اس دن درد اور سناٹے کا منظر پیش کر رہی تھیں۔ ایک طرف شادی کا کارڈ لوگوں تک پہنچ رہا تھا، تو دوسری طرف جنازے کا اعلان گونجنے لگا۔ یہ داستان ہے اس نوجوان کی، جو اپنی زندگی کی سب سے بڑی خوشی کا انتظار کر رہا تھا، لیکن قسمت نے اس کی راہ میں موت کا پہاڑ کھڑا کر دیا۔
خواب ادھورے رہ گئے…
حیات آباد کا یہ نوجوان کئی دنوں سے شادی کی تیاریاں کر رہا تھا۔ اس کی منگیتر کا گھر سجا ہوا تھا، مہندی اور بارات کی تاریخ بھی طے ہو چکی تھی۔ دونوں خاندانوں میں شادی کی خوشیاں عروج پر تھیں۔ لیکن کسی کو اندازہ تک نہ تھا کہ یہ شادی کا کارڈ تقسیم ہونے والا دن، جنازے کا اعلان بن جائے گا۔
ایک پل میں بدل گئی زندگی
دوستوں اور رشتہ داروں کا کہنا ہے کہ وہ نوجوان صحت مند، محنتی اور زندگی سے بھرپور تھا۔ لیکن اچانک اس کی طبیعت بگڑی اور چند گھنٹوں میں اس دارِ فانی سے کوچ کر گیا۔ جیسے ہی یہ خبر پھیلی، شادی کی تیاریاں ماتم میں تبدیل ہو گئیں۔
منگیتر کی بے بسی
حیات آباد کی گلیوں میں منگیتر کی چیخوں اور آنسوؤں کی گونج سنی جا سکتی تھی۔ وہی دلہن، جو کچھ دنوں بعد سفید عروسی لباس زیب تن کرنے والی تھی، آج سیاہ چادر اوڑھ کر اپنے ہم سفر کو الوداع کہہ رہی تھی۔
یادگار محبت، درد بھرے آنسو
یہ واقعہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ زندگی کتنی بے اعتبار ہے۔ ہم بڑے بڑے خواب سجاتے ہیں، لیکن تقدیر کی مرضی کچھ اور ہوتی ہے۔ اس نوجوان اور اس کی منگیتر کی محبت لوگوں کو مدتوں یاد رہے گی۔
خدا اس نوجوان کی مغفرت فرمائے اور پسماندگان کو صبر عطا کرے۔
