جہلم کے ایک معروف گرلز کالج کی پرنسپل، محترمہ رخشندہ بی بی، علم، عزت اور کردار کی ایک جیتی جاگتی مثال تھیں۔ برسوں سے تدریس کے شعبے سے وابستہ رہنے کے بعد وہ اُس مقام پر پہنچی تھیں جہاں ان کا ہر فیصلہ ادارے کے مستقبل سے جُڑا ہوتا۔
ایک دن کالج کے درجہ چہارم کے ملازم، عمران، جو کہ خاموش، باادب اور انتہائی دیانتدار انسان تھا، کسی انتظامی معاملے میں ان کی مدد کو آیا۔ اس چھوٹے سے تعامل نے کالج میں چہ میگوئیاں چھیڑ دیں۔ کچھ لوگوں نے دونوں کی ملاقاتوں کو منفی انداز میں لینا شروع کر دیا، اور افواہوں کا بازار گرم ہو گیا۔
رفتہ رفتہ افواہیں اتنی بڑھ گئیں کہ رخشندہ بی بی کی ساکھ داؤ پر لگ گئی۔ انہیں شکایت پر طلب کیا گیا اور ان سے وضاحت مانگی گئی۔ مگر انہوں نے خاموش رہنے کے بجائے کھلے دل سے سچ بیان کیا:
“میں ایک ادارے کی سربراہ ہوں، میرے ہر عمل کی ذمہ داری مجھ پر ہے۔ اگر میں نے کسی ملازم کو عزت دی ہے، اُس کی بات سنی ہے، تو وہ میرے منصب کا تقاضا ہے، نہ کہ ذاتی تعلق کا اشارہ۔ ہم کب سمجھیں گے کہ کسی خاتون کا کردار افواہوں سے نہیں، اس کے عمل، محنت اور سچائی سے جانچا جاتا ہے؟”
ان کی سچائی، وقار اور اعتماد نے نہ صرف الزامات کو جھٹلایا بلکہ ایک خاموش پیغام دے دیا — عورت کے کردار کو شک کی عینک سے مت دیکھو، بلکہ عزت کی نظر سے دیکھو۔
سبق:
-
اداروں میں خواتین کی عزت کرنا سیکھیں، کیونکہ ان کی جدوجہد مردوں سے کم نہیں۔
-
ملازمین کا احترام کرنا قیادت کی خوبی ہے، نہ کہ کمزوری۔
-
افواہیں معاشرے کو کھوکھلا کرتی ہیں، اصل کردار سچائی سے روشن ہوتا ہے۔
