بھائی کی موت ہم سب کے لیے ایک صدمہ تھی، لیکن بھابھی کے لیے یہ قیامت سے کم نہ تھی۔ اُن کی حالت دن بہ دن بگڑتی گئی۔ وہ کسی کی بات کا جواب نہیں دیتی تھیں، دیواروں سے باتیں کرتیں، کبھی زور زور سے ہنسنے لگتیں اور کبھی زاروقطار رونے لگتیں۔
بھائی کے انتقال کے بعد اُن کے میکے سے کوئی خبر نہ آئی۔ دراصل ان کے ماں باپ کئی سال پہلے وفات پا چکے تھے اور دو رشتہ داروں سے کبھی تعلق قائم نہ ہو سکا۔ گھر میں صرف میں، امی اور بھابھی بچ گئے تھے۔
امی کی عمر اور صحت اجازت نہیں دیتی تھی، اس لیے بھابھی کی ساری ذمہ داری مجھ پر آ گئی۔
شروع میں مجھے بہت مشکل لگی۔ ان کے نخرے، اچانک چیخنا، کھانے سے انکار، اور عجیب باتیں… سب کچھ میرے لیے نیا تھا۔ میں خود ایک عام سا نوجوان تھا، نہ شادی شدہ، نہ تجربہ کار۔ لیکن مجھے بھائی کا چہرہ یاد آتا، اور وہ الفاظ جو اکثر وہ کہتے تھے:
“میرے بعد اگر کچھ ہو جائے تو میری بیوی کا خیال رکھنا۔”
اور میں نے وعدہ نبھایا۔
ہر دن ایک آزمائش تھا، لیکن میں نے اسے نیکی سمجھ کر صبر کے ساتھ نبھایا۔ میں نے انہیں ہسپتال بھی لے جانا شروع کیا، دوا وقت پر دینا، اور ان کی ذہنی حالت کو سنوارنے کے لیے نرمی اور محبت سے بات کرنا میری عادت بن گئی۔
رفتہ رفتہ، ان کی حالت بہتر ہونے لگی۔ وہ خاموشی سے بیٹھی رہتی تھیں، پھر کبھی کبھار مجھے نام سے بلانے لگیں۔ ایک دن انہوں نے کہا:
“تم بھائی سے بھی زیادہ خیال رکھتے ہو۔”
میرے آنکھوں میں آنسو آ گئے۔
سبق:
-
رشتہ صرف خون سے نہیں، ذمہ داری اور خلوص سے بھی بنتا ہے۔
-
عورت جب شوہر کھو دیتی ہے، تو اکثر سسرال اُسے بوجھ سمجھنے لگتا ہے، لیکن ہم اگر اس نازک وقت میں اس کا سہارا بنیں، تو یہی انسانیت کی معراج ہے۔
-
ایسے وقت میں بھائی، دیور، نند یا سسرال کے افراد کو چاہیے کہ بھابھی کو “بیوہ” نہیں، بلکہ انسان سمجھیں۔ اس کی ذہنی، جسمانی اور جذباتی حالت کی بہتری کے لیے ساتھ دیں۔
-
ہمارے دین میں بھی یتیم اور بیوہ کی کفالت کا بڑا درجہ ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“جو شخص بیوہ اور مسکین کی کفالت کرتا ہے، وہ میرے ساتھ جنت میں یوں ہوگا جیسے دو انگلیاں۔”
