Information

بیٹی کا حق اور باپ کی ذمے داری: سلمہ کی کہانی ہر باپ کے لیے سبق

بیٹی کا حق اور باپ کی ذمے داری: سلمہ کی کہانی ہر باپ کے لیے سبق

سلمہ ایک معصوم، حساس، اور نرم دل لڑکی تھی۔ اس کی عمر محض 16 سال تھی جب اس کے والد نے اچانک اس کی ماں کو طلاق دے دی۔ ماں کو تو گھر سے نکال دیا گیا، مگر سلمہ کو زبردستی پاس رکھ لیا، جیسے وہ کوئی شے ہو، انسان نہیں۔

سلمہ کے والد نے دوسری شادی تو کر لی، لیکن اپنی بیٹی کو نئی زندگی کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کی کوشش نہ کی۔ نہ شفقت دی، نہ وہ پیار جو ایک باپ سے بیٹی کو ملنا چاہیے۔ بیٹی سے زبردستی کام لینا، اس کی آزادی سلب کرنا، اور نفسیاتی دباؤ ڈالنا… یہ سب ظلم کے زمرے میں آتا ہے۔


📌 اسلام کا حکم کیا ہے؟

اسلام نے والدین کو اولاد کے لیے رحمت اور سایۂ شفقت بنایا ہے۔ قرآن میں واضح فرمایا گیا:

“اور ماں باپ ان کے ساتھ حسن سلوک کرو۔”
(القرآن 17:23)

اولاد پر ظلم یا زیادتی کا کوئی جواز نہیں، چاہے وہ باپ ہی کیوں نہ ہو۔ طلاق ماں اور باپ کے درمیان ہوتی ہے، لیکن اس کا خمیازہ اکثر بچوں کو بھگتنا پڑتا ہے، جو کہ زیادتی ہے۔


💔 بیٹی کی نفسیاتی حالت

جب کسی بیٹی کو ماں سے جدا کیا جاتا ہے، اور باپ کا رویہ بھی سخت ہو، تو وہ اندر سے ٹوٹنے لگتی ہے۔ سلمہ جیسے بچے اکثر:

  • خاموش رہنے لگتے ہیں

  • خوداعتمادی کھو دیتے ہیں

  • پڑھائی سے دل ہٹا لیتے ہیں

  • یا پھر غلط راہوں پر جا نکلتے ہیں

یہ سب کچھ اس لیے ہوتا ہے کیونکہ اُنہیں گھر میں وہ محبت، تحفظ، اور فہم نہیں ملتا جس کے وہ حق دار ہوتے ہیں۔


🛑 باپ کی ذمے داریاں

  1. بیٹی کو ماں سے جدا نہ کریں
    جب تک ماں بچی کے لیے نقصان دہ نہ ہو، اُس سے جدا کرنا ظلم ہے۔

  2. دوسری بیوی کو حد میں رکھیں
    دوسری شادی کرنا جائز ہے، مگر بیٹی کے حقوق کو دبانے کی اجازت نہیں۔

  3. بیٹی سے مشورہ کریں، بات چیت رکھیں
    بیٹیاں جذباتی ہوتی ہیں، انھیں احساسِ تحفظ اور توجہ کی ضرورت ہوتی ہے۔


اصلاح کی ضرورت

اگر کوئی باپ غلطی کر چکا ہے تو توبہ کا دروازہ کھلا ہے۔ بیٹیوں سے بات کریں، ان سے معافی مانگیں، انہیں ماں سے ملنے دیں، اور ان کی تعلیم و تربیت کا خاص خیال رکھیں۔


🌱 نتیجہ

سلمہ کی کہانی ہمارے معاشرے میں بسنے والی ہزاروں بیٹیوں کی نمائندہ ہے۔ ہمیں ایک معاشرے کے طور پر یہ سوچنے کی ضرورت ہے کہ:

  • کیا طلاق کے بعد بچوں کو فٹبال بنایا جا رہا ہے؟

  • کیا باپ اپنی انا میں بیٹیوں کا مستقبل داؤ پر لگا رہے ہیں؟

  • کیا ہم نے بیٹیوں کے جذبات، ان کی خواہشات، ان کا حقِ رائے تسلیم کیا ہے؟

جواب اگر “نہیں” ہے، تو آج تبدیلی لانے کا وقت ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *