Information

صبر کی مثال: میری بھابھی کی کہانی جو ہر عورت کے لیے سبق ہے

صبر کی مثال: میری بھابھی کی کہانی جو ہر عورت کے لیے سبق ہے

میری بھابھی کا شمار اُن عورتوں میں ہوتا ہے جو اندر سے بہت مضبوط ہوتی ہیں، مگر باہر سے نرمی اور خاموشی کی تصویر نظر آتی ہیں۔ وہ ایک ایسی عورت تھیں جنہوں نے زندگی کی سختیوں، حالات کے طوفانوں، اور رشتوں کے کڑوے سچ کو بھی خندہ پیشانی سے قبول کیا۔

ہر شام جیسے ہی سورج غروب ہونے لگتا، بھابھی خاموشی سے اپنے کمرے میں چلی جاتیں۔ کوئی شور نہیں، کوئی شکایت نہیں۔ ہم سب سمجھتے تھے کہ وہ تھک گئی ہوں گی یا شاید آرام کرنا چاہتی ہیں۔ لیکن حقیقت کچھ اور تھی۔


🌙 اندرونی تکلیف، بیرونی مسکراہٹ

بھابھی کے چہرے پر ہمیشہ ایک ہلکی سی مسکراہٹ رہتی، مگر ان کی آنکھوں میں چھپا دکھ وہی دیکھ سکتا تھا جو دل سے محسوس کرے۔ ان کا شوہر اکثر سخت لہجے میں بات کرتا، اور کبھی کبھی توہین آمیز رویہ بھی اختیار کرتا۔ مگر بھابھی نے کبھی کسی سے شکایت نہیں کی۔

جب ہم نے ایک دن ان سے پوچھا کہ وہ اتنی خاموش کیوں رہتی ہیں، تو انہوں نے بس اتنا کہا:

“جو عورت صبر کرنا سیکھ جائے، وہ اپنی دنیا بھی سنوار لیتی ہے اور آخرت بھی۔”


📖 اسلام میں صبر کا مقام

اسلام نے صبر کو بہت بلند مقام دیا ہے۔ قرآن میں اللہ فرماتا ہے:

“بے شک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔”
(البقرہ 2:153)

ایسی عورتیں جو زبان سے جواب نہیں دیتیں، مگر دل میں اللہ کی رضا پر راضی رہتی ہیں، ان کے لیے رب کی طرف سے انعام ہے۔


🏠 گھریلو مسائل کا حل صرف صبر نہیں

لیکن یہاں ایک بات واضح کرنا بھی ضروری ہے: صبر کا مطلب ظلم برداشت کرنا نہیں۔ اگر کسی عورت پر جسمانی یا ذہنی ظلم ہو رہا ہے، تو شریعت اسے خاموش رہنے کا حکم نہیں دیتی، بلکہ حق مانگنے کا حق دیتی ہے۔ صبر اُس وقت عظمت بنتی ہے جب کوئی عورت حالات کے باوجود اپنی عزت نفس اور وقار کو قائم رکھے۔


🌸 بھابھی کا کردار آج بھی یاد ہے

وقت گزرتا گیا۔ بھابھی نے بچوں کی بہترین تربیت کی، شوہر کا ادب قائم رکھا، سسرال کے رشتوں کو جوڑ کر رکھا۔ آخرکار، اللہ نے ان کی زندگی بدل دی۔ شوہر کا دل نرم ہوا، گھر میں سکون آیا، اور بھابھی کی خاموش دعائیں رنگ لے آئیں۔


سبق: ہر عورت کو جان لینا چاہیے کہ

  • صبر خاموشی کا نام نہیں، بلکہ شعور کے ساتھ برداشت کرنے کا ہنر ہے۔

  • ظلم پر خاموش رہنا ثواب نہیں، اپنی عزت کی حفاظت کرنا بھی عبادت ہے۔

  • جو عورت خوددار ہو، وہ گھر کو ٹوٹنے سے بچاتی ہے، مگر اپنی حد سے باہر ظلم کبھی برداشت نہ کرے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *