Information

عدت کی اہمیت: ایک عورت کی جلد بازی کا انجام

عدت کی اہمیت: ایک عورت کی جلد بازی کا انجام

شوہر کی وفات کے بعد میرے دل میں قیامت ٹوٹ پڑی تھی۔ آنکھیں آنسوؤں سے نم تھیں اور دل صدمے سے نڈھال۔ لیکن سچ تو یہ ہے کہ میرے اندر کا خلا صرف شوہر کے جانے کا نہیں تھا، بلکہ اس خوف کا بھی تھا کہ اب زندگی کیسے چلے گی؟ کون سہارا بنے گا؟ اسی دوران داؤد میرے قریب آیا۔ وہ میرا محرم نہیں تھا، مگر میرے دکھ کو سمجھتا تھا، اور اسی ہمدردی نے ایک غلط سمت اختیار کر لی۔


❗ عدت کا حکم کیوں ہے؟

اسلام نے بیوہ عورت کے لیے چار ماہ دس دن (عدت) مقرر کی ہے، جو کہ:

“اور وہ عورتیں جو تم میں سے وفات پا جائیں، وہ اپنے (شوہر کے) گھروں میں چار ماہ دس دن عدت گزاریں۔”
(سورہ البقرہ، آیت 234)

یہ عدت عورت کے جذباتی، جسمانی اور روحانی سنبھلنے کا وقت ہے۔ یہ نہ صرف معاشرتی نظم کے لیے اہم ہے بلکہ عورت کے وقار کی حفاظت بھی کرتا ہے۔


💔 میری غلطی

میں عدت مکمل کیے بغیر داؤد کے ساتھ تعلق میں آگئی، اور ہمارے تعلق نے جلد ہی معاشرے میں سوالات کھڑے کر دیے۔ لوگ مجھے بدنام کرنے لگے، جبکہ داؤد نے آہستہ آہستہ فاصلہ اختیار کرنا شروع کر دیا۔ میں نے ایک لمحے کے جذباتی سہارا لینے کے لیے اپنے شوہر کی آخری یاد، اپنی عزت اور اللہ کے حکم کو نظر انداز کیا۔


📚 سبق: شریعت سے دوری کا انجام

اسلام کے اصول کبھی ظلم نہیں کرتے، بلکہ عورت کی عزت و عظمت کے محافظ ہیں۔ عدت کا احترام نہ صرف عورت کے لیے، بلکہ اس کے ہونے والے مستقبل کے لیے بھی ایک ڈھال ہے۔

  • عدت کے دوران نکاح، تعلق، یا دوسری جگہ بات چیت اسلامی لحاظ سے ممنوع ہے۔

  • جو عورت عدت کی پاسداری کرتی ہے، وہ اللہ کے حکم کی تعظیم کرتی ہے۔

  • عدت عورت کو معاشرتی فتنوں، بے اعتمادی اور الزام تراشی سے بچاتی ہے۔


🌹 اصلاح کا راستہ

جب مجھے اپنی غلطی کا احساس ہوا، تو میں نے اللہ سے سچے دل سے توبہ کی۔ داؤد چلا گیا، لوگ بھی خاموش ہو گئے، مگر میں نے دل سے یہ عہد کیا کہ آئندہ کبھی شریعت کے اصولوں سے ہٹ کر کوئی قدم نہیں اٹھاؤں گی۔


✅ پیغام برائے خواتین:

  • صبر کریں، اللہ کا حکم کبھی بے مقصد نہیں ہوتا۔

  • عدت مکمل کرنا عورت کی عزت اور اللہ کی رضا کی ضمانت ہے۔

  • وقتی سہارا ڈھونڈنے کے بجائے اللہ کو اپنا سہارا بنائیں، وہ کبھی مایوس نہیں کرتا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *