Information

میری بیٹی کا سوتیلا باپ اُس پر بہت مہربان رہتا ۔وہ میری بیٹی کو خود اسکول چھوڑنے لینے

میری بیٹی کا سوتیلا باپ اُس پر بہت مہربان رہتا ۔وہ میری بیٹی کو خود اسکول چھوڑنے لینے

یہ کہانی میری اپنی ہے۔ میں عائشہ ہوں، میری پہلی شادی اس وقت ختم ہوئی جب میری بیٹی بمشکل چار سال کی تھی۔ اس کے والد نے ہمیں چھوڑ دیا اور ہم پر ذرا بھی رحم نہ کھایا۔ زندگی مشکل تھی، لیکن میں نے اپنی بیٹی کی خاطر دوبارہ شادی کرنے کا فیصلہ کیا۔

میری دوسری شادی میرے ایک جاننے والے، احمد، سے ہوئی۔ احمد ایک نرم دل انسان تھا، اور شادی کے بعد اُس نے میری بیٹی کو اپنی سگی بیٹی کی طرح پیار دینا شروع کیا۔ وہ اس کا بہت خیال رکھتا، اس کو اسکول چھوڑنے اور لینے خود جاتا، اس کے کھانے پینے اور پڑھائی کی پوری توجہ دیتا۔

شروع میں مجھے لگا شاید یہ وقتی ہے، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ اُس کی محبت میں کمی نہیں آئی۔ وہ اکثر میری بیٹی کو پارک لے جاتا، اس کے ساتھ کھیلتا، اور اُسے ہمیشہ یہی کہتا:
“تم میری بیٹی ہو، تمہاری ہر خوشی میری خوشی ہے۔”

کبھی کبھی میری بیٹی بھی حیرت سے پوچھتی:
“امی، یہ ابو اتنے اچھے کیوں ہیں؟”
میں اُس کے سر پر ہاتھ رکھ کر کہتی:
“بیٹا، ہر مرد برا نہیں ہوتا۔ کچھ لوگ واقعی میں دل کے اچھے ہوتے ہیں۔”

میری بیٹی دن بہ دن خوش رہنے لگی۔ وہ اپنے سوتیلے باپ کو ابو کہہ کر پکارتے ہوئے ہنستی، کھیلتی۔ احمد کی شفقت اور محبت نے میری بیٹی کی زندگی بدل دی۔

میں نے سیکھا کہ رشتے خون سے نہیں، دل سے بنتے ہیں۔ آج مجھے لگتا ہے کہ میں نے اپنی بیٹی کے لیے صحیح فیصلہ کیا تھا۔ اس کہانی سے یہ سبق ملتا ہے کہ سوتیلا باپ ہونا کوئی جرم نہیں بلکہ اُس کے دل کی نرمی اور محبت اصل چیز ہے۔


اہم نوٹ:
یہ کہانی ایک سبق آموز فرضی کہانی ہے جس کا مقصد معاشرے میں مثبت رویے کو اجاگر کرنا ہے۔ اگر آپ کو کسی قسم کی مدد درکار ہو تو فوری طور پر اپنے قریبی رشتہ داروں، دوستوں یا متعلقہ اداروں سے رابطہ کریں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *