Information

قرض کی رقم ادا نہ کرنے پر شوہر نے مجھے سیٹھ کو بیچ ڈالا ، سیٹھ جیسے مجھے گھر لیکر آیا

قرض کی رقم ادا نہ کرنے پر شوہر نے مجھے سیٹھ کو بیچ ڈالا، سیٹھ جیسے ہی مجھے گھر لیکر آیا تو کیا ہوا؟

یہ کہانی سن کر دل دہل جاتا ہے۔ میں ایک عام سی گھریلو عورت ہوں جس کا نام فاطمہ ہے۔ میری شادی کو تین سال ہو چکے تھے۔ شوہر کی نوکری چھوٹ گئی، پھر اس نے ایک مقامی سیٹھ سے کچھ رقم قرض لی۔ شوہر کو امید تھی کہ کاروبار میں منافع ہوگا اور قرض واپس کر دے گا، مگر قسمت کی دیوی اس پر مہربان نہ ہوئی۔

چند مہینے بعد سیٹھ نے قرض کی واپسی کا تقاضا کیا۔ شوہر نے بہت منتیں کیں، مگر سیٹھ نہ مانا۔ آخر ایک دن شوہر نے مجھے کہا کہ بس ایک دو دن صبر کرو، میں قرض کی رقم کا بندوبست کر لوں گا۔ میں نے اعتبار کر لیا۔

اگلی صبح میرا شوہر مجھے لے کر سیٹھ کے پاس گیا اور کہنے لگا:
“صاحب! میں قرض کی رقم تو ابھی نہیں دے سکتا، مگر میری بیوی کو آپ کے پاس رہنے دو، یہ قرض کے عوض رہ لے گی، میں باقی رقم بھی بعد میں دوں گا۔”

میرے پاؤں تلے زمین نکل گئی۔ میں حیرت، صدمے اور خوف سے کانپ رہی تھی۔ سیٹھ نے ایک مکروہ مسکراہٹ کے ساتھ میری طرف دیکھا اور کہا:
“چلو، اب تم میرے گھر چلو۔”

میرا دل چیخ اٹھا، مگر میں کچھ نہ کہہ سکی۔ شوہر نے نظریں چرائیں اور خاموشی سے وہاں سے چلا گیا۔

سیٹھ نے مجھے ایک بڑے سے بنگلے میں لے جاکر کمرے میں بند کر دیا۔ میں نے پہلی رات روتے ہوئے گزار دی۔ دل میں ایک ہی سوال گونج رہا تھا:
“کیا یہ میرا نصیب ہے؟”

مگر جیسے جیسے وقت گزرا، مجھے اندازہ ہوا کہ سیٹھ مجھ سے کوئی غلط کام نہیں کروانا چاہتا۔ اس نے میرا حال چال پوچھا، میرے کپڑے، کھانا اور رہائش کا بندوبست کیا۔ آہستہ آہستہ مجھے لگا کہ شاید اس کا ضمیر جاگ گیا ہے۔

ایک دن اس نے مجھے بتایا:
“مجھے تم پر ترس آ رہا ہے۔ میں تمہیں کسی غلط راستے پر نہیں ڈالنا چاہتا۔ میں تمہاری مدد کروں گا، اور تمہیں واپس تمہارے والدین کے پاس بھیج دوں گا۔”

اس دن میرے دل سے ایک بوجھ سا ہٹ گیا۔ آج میں واپس اپنے ماں باپ کے پاس ہوں، اور زندگی کی نئی شروعات کر رہی ہوں۔


اہم نوٹ:
یہ کہانی ایک فرضی تحریر ہے جس کا مقصد صرف سبق آموز پیغام دینا ہے: کوئی بھی عورت کسی مرد کی ملکیت نہیں، اور ہر عورت کو اپنی زندگی پر اختیار ہونا چاہئے۔ اگر آپ کو اس طرح کی صورتحال پیش آئے تو قانون اور اپنے گھر والوں سے مدد لیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *