Information

💧 ہمبستری کے بعد عورت کا رونا – اصل میں کیا ہوتا ہے؟

💧 ہمبستری کے بعد عورت کا رونا – اصل میں کیا ہوتا ہے؟

اس کیفیت کو ماہرین نفسیات Postcoital Dysphoria (PCD) کہتے ہیں، جس کا مطلب ہے کہ مباشرت کے بعد عورت غم، اداسی یا آنسوؤں کا شکار ہو سکتی ہے، حالانکہ جسمانی تعلق خوشگوار گزرا ہو۔


👇 وجوہات درج ذیل ہو سکتی ہیں:


1. جذبات کا بوجھ ہلکا ہونا

عورت جب شوہر سے قربت حاصل کرتی ہے، تو وہ صرف جسم نہیں دیتی بلکہ اپنی روح، اعتماد، جذبات اور احساسات بھی سونپ دیتی ہے۔
ایسے میں اگر شوہر فوراً سو جائے یا سرد رویہ اختیار کرے، تو عورت ٹوٹ جاتی ہے۔ اور پھر آنسو بہتے ہیں۔


2. نفسیاتی دباؤ یا ماضی کی چوٹ

اگر عورت کے ماضی میں کوئی جذباتی یا جسمانی صدمہ رہا ہو، تو مباشرت کے بعد وہ ماضی کی یادوں سے پریشان ہو کر رونے لگتی ہے، چاہے شوہر محبت سے پیش آئے۔


3. عدم تحفظ یا ناپسندیدہ تعلق

اگر عورت کو لگے کہ وہ محبت نہیں بلکہ صرف جسمانی تسکین کے لیے استعمال ہوئی ہے، تو اس کے دل میں احساسِ گناہ، شرمندگی یا تنہائی پیدا ہوتی ہے۔


4. محبت کی شدت

کبھی کبھار عورت صرف اس لیے روتی ہے کہ اس نے مکمل طور پر خود کو اپنے شوہر کے حوالے کر دیا — یہ آنسو محبت کے ہوتے ہیں، جو بہت گہرے اور خالص جذبات کا اظہار ہوتے ہیں۔


5. ہارمونی تبدیلیاں

مباشرت کے دوران جسم میں جو ہارمونز (جیسے آکسیٹوسن) خارج ہوتے ہیں، وہ بعض اوقات اتنی جذباتی کیفیت پیدا کر دیتے ہیں کہ عورت بے اختیار ہو کر رونے لگتی ہے۔


🕊️ شوہر کیا کرے؟

  1. بیوی کے آنسو دیکھ کر غصہ نہ کرے، بلکہ نرمی سے گلے لگائے

  2. پوچھے: “تم ٹھیک ہو؟” اور اس کی بات کو توجہ سے سنے

  3. اسے یہ یقین دلائے کہ وہ صرف جسم نہیں، دل اور روح کی بھی ساتھی ہے

  4. دعا مانگیں اور ایک دوسرے کا ہاتھ تھام کر اللہ سے محبت کی برکت مانگیں


✨ نتیجہ:

عورت کا رونا کمزوری نہیں، بلکہ جذبات کی گہرائی کی علامت ہے۔ وہ چاہتی ہے کہ شوہر اسے سمجھے، اسے سنبھالے، اور ہر لمحے اس کا محافظ بنے — خاص طور پر اس وقت جب وہ سب سے زیادہ نازک اور بے بس محسوس کر رہی ہو۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *